• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور ایران کے درمیان فوجی طاقت کا موازنہ، برتر کون؟

کراچی (رفیق مانگٹ) عالمی سیاسی اور فوجی حلقوں کی نظریں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر مرکوز ہیں، جہاں دونوں ممالک کی مسلح افواج کی طاقت کا موازنہ ایک ممکنہ وسیع تنازع کی صورت میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔فوجی طاقت میں امریکا پہلے،ایران 16 ویں نمبر پر،تہران کے 1713 ، واشنگٹن کے4640 ٹینک، امریکا کا 895ار ب ڈالر کا دفاعی بجٹ، امریکا کے پاس 13ہزار جدید طیارے،ایران کےپاس صرف551-560پرانے طیارے ،واشنگٹن کی مالی برتری 60گنا زیادہ، ایران کے پاس 8لاکھ 50ہزار فعال، 2لاکھ ریزرو اہلکار، امریکا کے پاس 13لاکھ فعال، 7لاکھ 66ہزار یزرو اہلکار۔امریکا کی عالمی فوجی برتری کے باوجود ایران کی غیر روایتی حکمت عملی اور میزائل صلاحیت اسے خطرناک حریف بناتی ہے، جو خطے میں کسی بھی تنازع کو پیچیدہ اور طویل کر سکتی ہے۔ایران عالمی سطح پر ٹاپ 20 فوجی طاقتوں میں شامل ہے اور گلوبل فائر پاور کے مطابق 145 ممالک میں 16 ویں نمبر پر ہے، جبکہ امریکا پہلے نمبر پر ہے۔ ایران کا سالانہ دفاعی بجٹ 15.5 ارب ڈالر ہے، جو امریکی اخراجات 895 ارب ڈالر کا صرف ایک حصہ ہے۔ بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق ایرانی مسلح افواج میں 5 لاکھ 80 ہزاذ فعال اہلکار اور 2لاکھ تربیت یافتہ ریزرو اہلکار شامل ہیں۔اس کے مقابلے میں، امریکی فوج میں تقریباً 13 لاکھ فعال اہلکار اور 7لاکھ 66ہزار ریزرو اہلکار ہیں، گلوبل فائر پاور کے مطابق۔زمین پر طاقت کے حوالے سے، ایران کے پاس 1,713 ٹینک ہیں جبکہ امریکی فوج کے پاس 4,640 ٹینک اور ایران کی 65,825 بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں امریکی فورسز کے پاس 391,963 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔گلوبل فائر پاور کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس امریکی فوج کے مقابلے میں زیادہ ٹوڈ آرٹلری (2,070 بمقابلہ 1,212) اور زیادہ موبائل راکٹ پروجیکٹرز (1,517 بمقابلہ 641) ہیں، لیکن ایران بحری اور فضائی صلاحیتوں میں امریکہ سے کافی پیچھے ہے۔

اہم خبریں سے مزید