• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

استاذ العلماء، عاشقِ قرآن، شیخ الحدیث ’’مولانا قاری مفتاح اللہ ؒ ‘‘

مفتی غلام مصطفیٰ رفیق

محدّث العصر مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کے مایۂ ناز شاگرد، استاذ العلماء، عاشقِ قرآن ، شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، نگران مدرسہ تعلیم الاسلام گلشنِ عمر، امام و خطیب جامع مسجد گلشن عمرمولانا قاری مفتاح اللہؒ مورخہ 20 جنوری مطابق 30رجب المرجب اس دارِ فانی سے دارالبقاء کی جانب روانہ ہوگئے۔ مولانا قاری مفتاح اللہؒ کی ولادت صوبہ خیبرپختونخوا ، ضلع صوابی کے گاؤں گندف میں 1952 میں مولانا عبدالجلیل ؒ کے یہاں ہوئی۔ 

مولانا نے دارالعلوم نانک واڑہ میں قرآن کریم کے حفظ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد درسِ نظامی کے لیے عالم اسلام کی معروف دینی درس گاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا رُخ کیا۔1974ء میں جامعہ بنوری ٹاؤن سے درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کرکے دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے۔ 

آپؒ کے اساتذہ ٔکرام میں محدث العصر مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ ، مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا ادریس میرٹھی، مولانا فضل محمد سواتیؒ،مولانا بدیع الزمانؒ، مولانا سید مصباح اللہ شاہؒ، مفتی احمد الرحمنؒ ، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہیدؒ، مولانا عبداللہ کاکاخیلؒ اور مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ؒ جیسی شخصیات شامل ہیں۔

درسِ نظامی سے فراغت کے بعد محدّث العصر مولانا یوسف بنوری ؒ نے بذات خود ان کا تقرر اپنے گلشن جامعہ بنوری ٹاؤن میں کیا،ساتھ ہی سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر کے پاس واقع ایک مسجد اور مکتب (اس وقت مدرسہ تعلیم الاسلام و جامع مسجد گلشن عمر) جو اس ادارے کی شاخ بنی، ان کے سپرد کی۔ حضرت قاری صاحبؒ نے اپنے شیخ اور ان کے ادارے کے ساتھ ایسی وفا کی کہ آخری سانس تک مرکز و شاخ دونوں سے پیوستہ رہے۔

جس وقت گلشن عمر کی مسجد حضرت قاری صاحبؒ کے سپرد کی گئی محض ایک چھپڑ نما جگہ تھی، میٹھے پانی کی سہولت نہیں تھی، کھارا پانی ہوتا اور میٹھے پانی کا ایک ڈبہ رکھا ہوتا، مسجد کی چار دیواری بھی قائم نہیں ہوئی تھی اور کوارٹر نماجگہ میں حضرت قاری صاحب ؒکی رہائش ہوتی تھی، امام اہل سنت مفتی احمد الرحمنؒ ایک بار کئی بزرگ اہل علم مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ؒ وغیرہ کو لے کر گلشن عمر تشریف لے گئے اور وہاں ان حضرات نے اپنے ہاتھوں سے ایک کنواں کھودنے کا آغاز کیا، ان کی کرامت کہ اللہ تعالیٰ نے میٹھاپانی نصیب فرمادیا اوراب تک اس کنویں سے فائدہ حاصل کیا جارہا ہے۔ 

حضرت بنوریؒ کے زمانے میں قائم شدہ اس شاخ میں فقط قرآنی مکتب قائم ہوا تھا، حضرت بنوریؒ کے وصال (اکتوبر 1977ء )کے بعد مفتی احمد الرحمنؒ جامعہ بنوری ٹاؤن کے منصب اہتمام پر فائز ہوئے، یہ بھی یاد رہے کہ مفتی احمد الرحمنؒ کا انتخاب محدث العصر حضرت بنوریؒ اپنی حیات میں کرچکے تھے اور انتخاب سے متعلق اس تحریر پر دستخط کی سعادت حضرت قاری صاحبؒ کو بھی حاصل تھی، مفتی احمد الرحمن ؒ کے دورِ اہتمام میں مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمر میں تعمیرات ہوئیں، درسِ نظامی کی تعلیم کا آغاز ہوا اور الحمدللہ سیکڑوں طلبہ وہاں زیر تعلیم ہوتے ہیں ، درجہ سابعہ تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ 

مولانا قاری مفتاح اللہؒ 1975ء سے وصال تک پچاس برس سے زائدعرصے تک اس مدرسے کی نگرانی ، یہاں درس و تدریس، مسجد کی امامت وخطابت سے وابستہ رہے ۔ نصف صدی سے زائد منبر ومحراب سے وابستگی اور مہمانانِ رسولؐ کی علمی سیرابی کی خدمت وہ عظیم نعمت ہے جو اللہ اپنے چنیدہ بندوں کو نصیب فرماتے ہیں۔

اس ادارے کی ذمہ داری کے ساتھ آپ 1975ء سے انتقال تک مسلسل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں قرآن و سنت ، فقہ اسلامی کی تعلیم دیتے رہے۔ یہاں آپ نے درسِ نظامی کی ابتدائی کتب سے لے کر آخری درجہ دورۂ حدیث تک کی کتب کی تدریس فرمائی، ربع صدی ہوچکی کہ آپ دورۂ حدیث، جہاں صبح و شام قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، رسول پاک ﷺکی ذاتِ گرامی پر لاکھوں، کروڑوں درود وسلام بھیجا جاتا ہے، آپ ﷺکے مبارک کلمات کو پڑھا اور سمجھا جاتا ہے،میں حدیث مبارک کا درس دیتے رہے۔ یوں رسول کریم ﷺکی اس مبارک دعا کا حقیقی معنوں میں مصداق بنے جس میں آپﷺ نے فرمایا:"اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی ، اور جیسے سنا تھا ایسے ہی آگے پہنچادیا"(ترمذی )

سالہا سال تک حدیث شریف کی معروف کتاب شرح معانی الآثار(طحاوی شریف )کا درس دیا، الحمدللہ بندے کو 2008ء میں حضرت قاری صاحبؒ سے طحاوی شریف پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی، اور اب چند سالوں سے جامعہ کے سابق شیخ الحدیث جامع المعقول و المنقول مولانامحمدانوربدخشانی ؒ کی رحلت کے بعد آپ شیخ الحدیث مقرر ہوئے اور صحیح بخاری کا درس دیتے رہے ۔حسن اتفاق کہیے، حدیث کی برکت یا کرامت کہ امسال بھی بلاناغہ صحیح بخاری کے اسباق مکمل فرماکر تعلیمی سال کے اختتام پر سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔

اسباق اور وقت کی ایسی پابندی فرماتے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن میں دورۂ حدیث میں صبح کا اول سبق جو مدرسہ کے عام تعلیمی اوقات سے قبل شروع ہوجاتا ہے، یہ اول سبق آپ کے سپرد تھا اور مقررہ وقت سے قبل آپ گلشن عمر سہراب گوٹھ سے جامعہ بنوری ٹاؤن پہنچ جاتے تھے، ناغہ ہرگز نہیں فرماتے ، اور اخیر تک اسی معمول پر قائم دائم رہے ۔ پوری دنیا میں بالواسطہ اور بلاواسطہ آپ کے لاکھوں شاگرد اور فیض یافتہ دین کی نشر و اشاعت میں مصروف ہیں۔

اس تعلیمی خدمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم سے بھی بڑی محبت نصیب فرمائی تھی، صحیح معنوں میں عاشق قرآن تھے، مزیدبرآں حسن صوت کی نعمت سے بھی مالا مال تھے، قرآن کے ساتھ ایسی محبت کہ جس کی نظیر بہت کم ملتی ہے، تمام مصروفیات کے ساتھ بلاناغہ قرآن کی تلاوت کا اہتمام تھا، ہم نے سن رکھا تھا کہ تہجد میں تین پاروں کی تلاوت فرماتے ہیں، پھر اس کا عملی مشاہدہ بھی ایک سفر میں ہوا، تہجد کے اس قدر پابند کہ رشک آئے، ایک سفر میں بطور خادم رفاقت میسر آئی، رات بارہ بجے کے قریب پہنچے اور آرام کے لیے لیٹ گئے، تین بجے کے وقت آنکھ کھلی تو استاذ محترم حضرت قاری صاحبؒ کو مصلّے پر پایا، رب کریم کے حضور سربسجود ہیں، اور فجر کے قریب تک تہجد میں مصروف رہے، نمازفجر ادا کی اور دوبارہ اعمال و مطالعے میں مصروف ہوگئے، اس پیرانہ سالی میں بھی عبادت کا یہ حال تھا، ایک اور سفر میں بھی یہی مشاہدہ کیا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ یومیہ دس پاروں کی تلاوت کا معمول ہے، جو اخیر میں پندرہ پاروں اور پھر قریبی احباب سے معلوم ہوا کہ اب ایک دن رات میں مکمل قرآن کریم پڑھنے کا معمول بناچکے تھے، قرآن کریم کی تفسیر سے بھی بڑا شغف تھا، تقریباً پچپن برس تک تراویح میں قرآن کریم سنانے کی توفیق نصیب ہوئی، ایسی موفق ہستیاں خال خال دیکھنے کو ملتی ہیں۔

عملی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ نے بیشمار خوبیوں سے نوازا تھا، ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنا آپ کا وصف خاص تھا، مزاج و لباس میں نہایت سادگی تھی، تکلفات سے آپ کوسوں دور تھے۔ قرآن کریم اور حدیث رسول کے ساتھ ساری زندگی وابستگی کی برکت تھی کہ اس ماہ میں بھی ان کی خوبصورت آواز کراچی کے معروف دینی اداروں کے سالانہ پروگراموں میں گونجتی رہی۔

نحیف جسم مگر مضبوط، توانا اور نہایت خوبصورت آواز کے مالک تھے، جلال و جمال کے جامع تھے، خداوند کریم کی جانب سے بے پناہ حافظہ عطا ہوا تھا، اردو، فارسی ، عربی اور پشتو کے اشعار خوب یاد تھے ، موقع بموقع ترنم کے ساتھ اشعار سناتے اور دلوں کو تسکین فراہم کرتے۔ 

ماہ جنوری میں چند روز قبل انہوں نے کراچی کی کئی معروف دینی جامعات میں صحیح بخاری کی آخری حدیث کا درس دیا اور خوب دیا۔ علالت سے محض پانچ روز قبل گیارہ جنوری کو جامعہ غفوریہ میں بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا اور پُرسوز آواز میں یہ شعر پڑھا :’’زندگی بس بندگی کا نام ہے اور زندگی بے بندگی ناکام ہے‘‘۔

خود ساری زندگی اس بندگی کی عملی تصویر پیش کرتے رہے اور ہمیں یہ سبق دے گئے کہ بندگی ہو تو اس طرح ہو۔ اسی درس میں قیامت اور آخرت کی پیشی پر گفتگو کی۔ پانچ دن بعد دل کے عارضے کی بناء پر ہسپتال میں داخل کیے گئے، تین دن ہسپتال میں رہے، جس روز انتقال ہوا، اس شب تہجد اور صبح فجر کی نمازوضو کرکے کھڑے ہوکر ادا فرمائی، اور ظہر سے قبل اس دنیا سے کوچ کرگئے۔

حقیقی معنوں میں اس روایت کے مصداق تھے جس میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا لوگوں میں بہترین وہ ہیں جن کی عمر بھی زیادہ ہو اور اعمال بھی اچھے ہوں ۔ آپ کی میت کو اولاً مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمر لے جایا گیا اور شام کو جامعہ بنوری ٹاؤن لایا گیا، قدیم دورۂ حدیث میں زیارت کے لیے رکھا گیا، چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند چمک رہا تھا، بعد نماز عشاء ایک جم غفیر نے جامع مسجد بنوری ٹاؤن میں آپ کے بڑے صاحبزادے کی اقتداء میں جنازے کی نماز ادا کی، آپ نے اپنے پسماندگان میں دو بیوہ، تین صاحبزادے ، چار صاحبزادیاں اور دنیا بھر میں موجود تلامذہ چھوڑے ہیں، جو ان شاء اللہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہوں گے۔

اقراء سے مزید