پروفیسر خالد اقبال جیلانی
اسلامی معاشرے کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ تمام دنیا کے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ انسان ہونے کی حیثیت سے وہ سب برابر ہیں، اور ان کے درمیان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور وطنیت کی بناء پر جو تعصاب پیدا ہوگئے ہیں۔ اسلام ان سب کو غلط اور جاہلیت قرار دیتا ہے۔ اسلام رنگ نسل، زبان اور وطن کی حد بندیوں کو توڑ کر ایک عالم گیر معاشرے کے قیام کا متقاضی ہے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ انسانوں کے اندر فکری اور مقصدی وحدت پیدا ہو۔
اس عالمی وحدت کے پیدا کرنے کے لئے اسلام نے زندگی بسر کرنے کا ایک سیدھا اور کامیاب راستہ بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی بجائے ایک اللہ واحد کی اطاعت قبول کر لی جائے۔ خاندان، رشتے دار اور ہمسایےکے قریبی رابطوں کے علاوہ ا نسان کے تعلقات کا ایک وسیع دائرہ ہے جو پورے کرۂ ارض پر پھیلا ہوا ہے۔
ان تعلقات کے قائم کرنے کے لئے اسلام نے جو موٹے موٹے اصول وضع کئے ہیں ،ان کا ماحصل یہ ہے کہ (۱) انسانی جان اور خون محترم ہیں اور ان کا ناحق ضائع کرنا انسانی تمدّن کے خلاف جرم ہے۔ (۲) عورت بچے، بیمار اور زخمی پر دست درازی کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔(۳) بھوکا آدمی روٹی کا ، ننگا کپڑے کا، بے گھر گھر کا، زخمی اور بیمار علاج اور تیمار داری کا بہر حال مستحق ہے۔
چاہے وہ دشمن قوم ہی سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو۔ (۴) بندگانِ خدا کے درمیان رنگ، نسل ، زبان، پیشہ، قومیت، وطنیت وغیرہ کی بنا ءپر امتیاز برتنا ناجائز ہے۔ (۵) نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں تعاون اور بدی اور ظلم کے کاموں کے خلاف جہاد انسانی فرائض میں شامل ہے۔ یہی وہ زرّیں اصول ہیں جن پر عمل کرنے سے ایک عالم گیر انسانی معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔
انسان کو اشرف المخلوقات بنایا گیا اور اسے انہی صلاحیتوں اور قوتوں کی بناء پر نائب ِخدابھی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے انسان کی معاشرتی ذمہ داریاں بھی انتہائی وسیع ہو گئی ہیں اور انسانی میل ملاپ کے علاوہ اس پر دیگر جان داروں حتیٰ کہ بے جان اشیاء کی دیکھ بھال اور ان کے صحیح اور جائز استعمال کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اسی قسم کی فکر ی وحدت اور مقاصد کا اشتراک ایک ایسے عالمگیر معاشرے کا نظام وجود میں لاسکتا ہے جس سے مختلف انسانی گروہوں کی باہمی کشمکش کا خاتمہ ممکن ہے اور دنیا میں امن و سلامتی کا دور دورہ۔
معاشرے کا یہ اسلامی نظام بالکل فطری اور قدرتی ہے۔ اور تمام دوسرے نظریے جنہیں انسان نے زندگی کی مختلف ضروریات کی تکمیل کے لئے خود وضع کر رکھا ہے اور وہ اسی وجہ سے مصنوعی و بیکار ہیں۔ اور اُن کی بدولت انسانی تہذیب و تمدن حقیقی ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ خاندان، قبیلہ، قوم اور نسل، جغرافیائی جمعیتیں، معاشی جمعیتیں، سیاسی اور تمدنی جمعیتیں ، سب غیر فطری اور مصنوعی دھڑے بندیاں ہیں جو ایک اسلامی عالمگیر انسانی اخوت کے قدرتی تصور کے سامنے آتے ہی ماند پڑ جاتی ہیں۔
اللہ کی فرماں برداری، اطاعت اورخوشنودی کے حصول کے لئے قرآن اور سنت ہی ایسے بنیادی ستون ہیں جو اللہ کے قانون اور اس کی ہدایت کے مطابق انسان کو کامیاب زندگی بسر کرنے اور معاشرے کی تنظیم میں معاون اور مدد گار ہو سکتے ہیں۔
اسلامی نظریے کے مطابق انسان کو اس دنیا میں نائب ِ خدا کا درجہ حاصل ہے۔ اللہ کے خلیفہ کے اس منصب سے صاف ظاہر ہے کہ اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق انسان کو وہ تمام قسم کی صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں جن سے کام لےکر وہ صحیح راہ پر گامزن ہوسکتا ہے اور اس طرح انسانیت کی تعمیر اور معاشرے کی فلاح و بہود کا موجب بن سکتا ہے۔
اس سے یہ امر بھی واضح ہے کہ انسان کو اللہ نے اس دنیا میں بادشاہت اور جبر و قوت کے استعمال کیلئے نہیں بھیجا، بلکہ حاکمیت کا مقام صرف اپنے ہی لئے مخصوص فرمایا اور انسان کو نائب اور خلیفہ کا مقام عطا فرما کر اسے اس امر کی ضمانت دی ہے کہ اگر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرکے اس کے رسولﷺ کے ذریعے بھیجے ہوئے قانون یعنی کتاب و سنت پر عمل کریں تو اسے خلافت عطا فرمائی جائے گی۔
اسلامی نظام نے جس طرح اللہ کی اطاعت کے لئے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و اتباع لازم کی ہے اسی طرح رسول اللہﷺ کی اطاعت کے لئے ان کے نائبین یا خلفاء یعنی اولی الا مر کی اطاعت کو ضروری و لازم قراردےکر قرآن میں بیان کر دیا ہے، جس کے مطابق اطاعت ووفاداری کی وابستگی خود اسلام کے ساتھ وفاداری اور وابستگی ہے۔
اجتماعی زندگی کو متمدن اور شائستہ طریقے پر بسر کرنے کے لئے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کے درمیان زندگی کے عام معاشرتی، معاشی، دینی اور سیاسی مقاصد میں یکساں ہم آہنگی ہونی چاہیے، تاکہ افرادِ معاشرہ ایک دوسرے کے تعاون سے ان مقاصد کی تکمیل کر سکیں۔