کراچی (بابر علی اعوان) بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں خطرناک نپاہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد سندھ میں محکمہ صحت کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کی جانب سے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، سول اسپتال کراچی، لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد، پیپلز میڈیکل یونیورسٹی اسپتال شہید بینظیر آباد، چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ، غلام محمد مہر میڈیکل کالج اسپتال سکھر سمیت صوبے کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں، ضلعی صحت دفاتر اور لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کو نپاہ وائرس کے حوالے سے الرٹ/ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق نپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور بعض صورتوں میں انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے اور شدید سانس کی بیماری اور مہلک دماغی سوزش کا سبب بنتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کے مطابق جنوری 2026 میں بھارت کی ریاستمغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے کم از کم پانچ تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں طبی عملے کے افراد بھی شامل ہیںتاہم پاکستان میں اب تک نپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ محکمہ صحت سندھ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور بیماری کی بروقت تشخیص، نگرانی، احتیاطی تدابیر اور انفیکشن کنٹرول کے اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ہدایت نامے میں ریپڈ ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رکھنے، پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو واچ موڈ پر رکھنے اور بین الاقوامی داخلی راستوں پر نگرانی مزید سخت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کے مطابق نپاہ وائرس کی علامات میں بخار، سر درد، جسم درد، قے اور گلے کی خراش شامل ہیں جو تیزی سے شدید دماغی سوزش، بے ہوشی اور دوروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ وائرس کی تشخیص کے لیے آر ٹی - پی سی آر ٹیسٹ کو گولڈ اسٹینڈرڈ قرار دیا گیا ہے جبکہ مشتبہ نمونوں کو سخت بایو سیفٹی اصولوں کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ نپاہ وائرس کا فی الحال کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں اور مریضوں کا علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ محکمہ صحت نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کرنے اور متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کی اسکریننگ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ صورتحال پر عالمی ادارہ صحت کے ساتھ قریبی رابطے میں مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔