ڈاکٹر نعمان نعیم
اللہ عزوجل نے اس کارخانۂ عالم کے نظام کو چلانے اور انسانی ضروریات کی آپس میں تکمیل کے لئے خود انسانوں کے مابین فرقِ مراتب رکھا ہے ، کوئی حاکم ہے تو کوئی محکوم، کوئی بادشاہ ہے تو کوئی رعایا، کوئی غنی ہے، تو کوئی فقیر، لیکن انسانوں کے مابین یہ فرقِ مراتب اور یہ درجات اور مقام کے لحاظ سے یہ اونچ نیچ صرف اس لئے ہے کہ ہر ایک کی ضرورت کی تکمیل دوسرے سے ہوجائے، مقام ورُتبے کا یہ فرق اس لئے نہیں کہ اسے بڑائی اور برتری کا پیمانہ قرار دیا جائے کہ جو بڑے رتبے اور مقام کا حامل ہے، وہ کمتر اور دوسرے شخص کو حقیر سمجھے، خصوصاً اسلام کی تعلیمات اس حوالے سے نہایت واضح ہیں کہ خادم ومخدوم، آقا وغلام کے مابین اس طرح کا فرق کہ مخدوم اور آقا تو اپنے آپ کو نہایت مہذب اور اونچی شان والے گردانیں اور غلاموں اور خادموں کے ساتھ حقیر اورکمتر قسم کا برتاؤ کریں، اس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
اس سلسلے میں معتدل اور بہترین وہی ہے جو نبی کریمﷺ نے اپنے ماتحتوں اور غلاموں اور خادموں کے ساتھ برتی اور ان کے ساتھ جو بہتر سلوک اور حسن معاملہ آپ ﷺ نے فرمایا اور آپﷺ کے اصحابؓ نے خادموں سے جو حسن سلوک روا رکھا، آپ ﷺ کی تعلیمات اور ارشادات جو اس سلسلے میں موجود ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے خادموں اورماتحتوں کے حقوق کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ آپ ﷺ نے اپنے مرض الوفات اور زندگی کے آخری لمحات میں بھی نماز جیسے اہم اسلامی رکن کے ساتھ ساتھ غلاموں اور خادموں کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین اور وصیت فرمائی۔
نبی کریم ﷺ نے خادموں اور غلاموں کے طبقے کو جو اس وقت بالکل حقیر اورکمتر سمجھا جاتا تھا، ان کے مقام کو بلند کر کے آپﷺ نے بھائیوں کے درجے تک پہنچایا ، یعنی ایک انسان جس طرح اپنے بھائی کے ساتھ مساوات اور برابری کا برتاؤ کرتا ہے، غلاموں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تمہارے خدمت گزار تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں (قبضہ) میں دے دیا ہے، اس لیے جس کا بھائی اس کے قبضے میں ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے ویسا ہی پہنائے، جیسا خود پہنتا ہے، انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان سے نہ ہو سکے اور اگر انہیں زحمت دو تو ان کی مدد کرو۔(صحیح بخاری)
خادم چونکہ وہ بھی انسان ہیں، ان کے بھی اہل وعیال ہیں، ان کی اپنی ذاتی ضروریات ہیں، اس لئے ان کی اجرت اور محنتانہ کو وقت مقررہ پر ادا کریں، ٹال مٹول نہ کریں، نبی کریم ﷺ نے اجرت اور محنتانہ کی ادائیگی بعجلت ادا کرنے کو یوں فرمایا: مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو ۔( ابن ماجہ)مطلب یہ ہے کام کی تکمیل پر یا وقتِ مقررہ پر اجرت کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔
اجرت کی ادائیگی میں ٹال مٹول پر نبی کریم ﷺنے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں: آپ ﷺنے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں قیامت کے دن میں ان کا دشمن ہوں گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے، اس سے پورا کام لے اور اسے اجرت نہ دے۔ (صحیح بخاری)
ساتھ ہی ساتھ کام کی مقدار بھی متعین ہونی چاہئے ، نہ کہ خادم اور مزدور سے اس کی وسعت اور طاقت سے زیادہ کام لے کراسے گراں بار اور بوجھل کردیاجائے، اسی کو نبی کریم ﷺنے فرمایا: غلام سے ایسا کام نہ لو جو ان کی طاقت اور قوت سے باہر ہو۔( موطا امام مالک )
مثلاً اصول صحت کے اعتبار سےجن کاموں کو چھ گھنٹے کیا جاسکتا ہے، ان کے چھ گھنٹے اور جن کاموں کو آٹھ گھنٹے کیا جاسکتا ہے، ان ملازمین کوآٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی ہوگی، بعض لوگ کم عمر بچوں اور بوڑھوں سے ان کی طاقت اور قوت سے زیادہ کام لیتے ہیں، یہ جرم ہے ، مستقل ملازمین کے لئے ہفتہ میں ایک دن تعطیل اور رشتے داروں سے ملاقات کے لئے بھی رخصت ہونا چاہئے ۔(رد المحتار )
کام میں اس کا ہا تھ بٹائے، پورے کام کا بوجھ اسی پر نہ ڈالے ،مثلاً وہ کسی بوجھ کو اٹھا رہا ہے اور اس کے اٹھانے میں اسے کافی مشقت ہورہی ہے تو تھوڑا ہاتھ خود بھی لگائے ، آپﷺ نے خادم کے کام میں ہاتھ بٹانے پر اجر وثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔
انسان غلطی کا پتلا ہے، انسان ہونے کے ناطے اس سے غلطی سرزد ہوجائے تو اس سے درگزر سے کام لیا جائے، نہ کہ اسے ہدفِ تنقید بنایا جائے اور اسے کھری کھری سنادی جائے، ذرا ذرا سی معمولی معمولی سے غلطی پر اس کی گرفت کی جائے، اس پر سختی کی جائے ، حضور نبی کریم ﷺ کا عمل اس حوالے سے ہمارے لئے اُسوہ ٔ حسنہ اور روشن نمونہ ہے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ خادموں سے کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے تو عفو ودرگزر تو دور رہا، ہم اسے طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے، زدوکوب کرتے ہیں، وہ بھی اپنے دل میں درد اور کسک رکھتا ہے، اس کے دل کو ٹیس پہنچتی ہے، اس کاجسم بھی درد محسوس کرتا ہے۔
انسان ہونے کے ناطے اس کے ساتھ حسن سلوک روا رکھیے ۔خلاصہ یہ کہ خادموں کو حقیر نگاہ سے نہ دیکھا جائے ، ان کے ساتھ بھی بھلائی اور حتی المقدور مساوات اور برابری کا برتاؤ کیا جائے، ان کی ضروریات اور حاجات کا خیال رکھا جائے ، ان کے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کے نظم وانتظام کی بھی نگرانی رکھے، ہوسکے تو جو کھانا خود کھائیں، وہ انہیں کھلائیں، جو کپڑا خود پہنیں، انہیں پہنائیں، کم ازکم انہیں اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ کھلائیں ضرور، ان پر کاموں کا اس قدر بوجھ نہ ڈالیں جو ان کی ہمت اور طاقت سے باہر ہو۔
اگر وہ کسی مشقت آمیز کام میں مصروف ہوں تو ان کا ہاتھ بٹائیں، انہیں ماریں نہیں، انہیں برا بھلا نہ کہیں، انہیں لعن طعن نہ کریں، ان کی ہمت افزائی کریں،ان کی غلطیوں کو نظر انداز کریں، انہیں دعاؤں سے نوازتے رہیں، ان کے لئے بد دعا نہ کریں۔ ان کا محنتانہ اور مزدوری وقت پر ادا کریں۔