اسلام آباد ( نیوز ر پو رٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمد کنندگان کیلئے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ، بجلی کے ٹیرف میں چار روپے چار پیسے مزید کمی، ویلنگ چارجز میں 9 روپے کی کمی سمیت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بڑے برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس جیسے بڑے مراعات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدکنندگان کی غیرمتزلزل محنت سے ملک میں اربوں ڈالر آئے، معیشت مستحکم سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہورہی ہے ، معرکہ حق کے بعد دنیا میں ہماری دھاک بیٹھ گئی جو پہلے سلام نہیں کرتے تھے اب گلے لگاتے ہیں، سیاسی و عسکری قیادت ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کر رہی ہے ، چند سالوں میں ملکی معیشت کو بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، معاشی کامیابی کے کٹھن سفر میں کامیابی کیلئے دن رات خون پسینہ بہانا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کی بحالی کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے حکومت اور فوج کی شراکت داری کو ملک کیلئے بہترین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرےگا، بجلی 10 روپے سستی کرنا چاہتا تھا، ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کیلئے آئی ایم ایف سے بات کرینگے، انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک کو تگڑے فیصلوں کا مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزرا ء خواجہ محمد آصف ،عطا اللہ تارڑ، جام کمال، احسن اقبال ،رانا تنویر حسین ،شزہ فاطمہ خواجہ،مصدق ملک ، عبدالعلیم خان ، حنیف عباسی سمیت وفاقی وزرا ، معاونین خصوصی ، مشیران اور نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں۔ وزیر اعظم نے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کو 2024 اور2025میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈ دیئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان بھر سے آئی مایہ ناز کاروباری شخصیات کو خوش آمدید کہتے ہیں جنہوں نے شبانہ روز محنت کرکے ملک کا نام روشن کیا اور ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ برآمد کنندگان نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، پوری قوم ان کو مبارکباد پیش کرتی ہے، برآمدکنندگان کی غیرمتزلزل محنت سے ملک میں اربوں ڈالر آئے۔ وزیر اعظم نے شرکا کو یاد دلایا کہ ماضی قریب میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جاتی رہیں۔