کراچی(سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں ادارہ جاتی بحران اس وقت انتہا کو پہنچ گیا ہے جب 28جنوری کو قائم مقام چیئرمین/ وفاقی سیکریٹری تعلیم کی دوسری 90 روزہ مدت بھی ختم ہو گئی، جس کے بعد گزشتہ دو روز سے ایچ ای سی نہ صرف مستقل بلکہ قائم مقام سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے وفاقی نظام کے لیے ایک غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی قائم کردہ سرچ کمیٹی کی سفارش پر چیئرمین ایچ ای سی کے لیے تین نام ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر محمد علی شاہ اور ڈاکٹر نیاز احمد ڈیڑھ ماہ قبل وزیراعظم آفس کو ارسال کیے جا چکے ہیں، تاہم تاحال ان میں سے کسی ایک نام کی بھی منظوری نہیں دی جا سکی ہے۔ یہ غیر معمولی تاخیر اس امر کی عکاس ہے کہ اعلیٰ تعلیم جیسے حساس قومی شعبے میں فیصلہ سازی مکمل جمود کا شکار ہو چکی ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، جو خود ایک بڑی سیاسی پارٹی ایم کیو ایم کے چئیرمین اور تجربہ کار ماہرِ تعلیم بھی ہیں، اب تک تینوں امیدواروں میں سے کسی ایک نام کی منظوری بھی وزیراعظم سے نہیں کرا سکے۔ حکومتی و تعلیمی حلقوں میں یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ وزارتِ تعلیم اس معاملے میں عملاً بے اختیار اور بے بس نظر آتی ہے۔ایچ ای سی حکام کے مطابق چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث کمیشن کے متعدد کلیدی امور تعطل کا شکار ہیں، جن میں جامعات کے لیے فنڈز کی منظوری، وائس چانسلرز اور سینئر انتظامی عہدوں پر تقرریاں، تحقیقی منصوبے، ترقیاتی اسکیمیں اور بین الاقوامی تعلیمی معاہدے شامل ہیں۔ سرکاری جامعات میں بے یقینی کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے، جب کہ وائس چانسلرز کی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کو چیئرمین کے بغیر چھوڑ دینا محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے پورے ڈھانچے کو غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اگر وزیراعظم آفس اور وفاقی حکومت نے فوری فیصلہ نہ کیا تو اس کا براہِ راست اثر تحقیقی معیار، جامعات کی خود مختاری اور پاکستان کی عالمی تعلیمی ساکھ پر پڑے گا۔