پشاور (سٹاف رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے پشاور پریس کلب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پریس کلب کے نومنتخب صدر ایم ریاض، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان اور کابینہ کے دیگر اراکین کو کامیابی پر مبارکباد دی۔بعد ازاں میاں افتخار حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی و صوبائی صورتحال، جمہوریت، صحافت اور قومی سیاست سے متعلق اہم امور پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حاجی غلام احمد بلور قومی تحریک کا نچوڑ اور نظریاتی استقامت کی روشن مثال ہیں، جو باچا خان سے لے کر ولی خان، اسفندیار ولی خان اور موجودہ قیادت ایمل ولی خان تک قومی تحریک کے نظریے کے ساتھ ثابت قدمی سے وابستہ رہے ہیں۔ حاجی غلام احمد بلور نے محض پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی ہے، تاہم وہ آج بھی سیاست میں متحرک ہیں اور پارٹی کے تمام فورمز کے باقاعدہ رکن ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ حاجی غلام احمد بلور پشاور کی شناخت اور قومی تحریک کا فخر ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کے خاندان نے بے مثال قربانیاں دیں، بیٹے شبیر بلور، بھائی بشیر بلور اور بھتیجے ہارون بلور کی شہادتوں کے باوجود ان کے حوصلے اور عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی متعدد بار دہشتگرد حملوں کا نشانہ بنے مگر محفوظ رہے، اور اسی لیے ہم انہیں بجا طور پر "زندہ شہید" کہتے ہیں۔ پارلیمانی سیاست کو درپیش چیلنجزبارے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ملک میں پارلیمانی سیاست میں غیر آئینی مداخلت ایک المیہ بن چکی ہے، جہاں جیتے ہوئے امیدوار ہار جاتے ہیں اور ہارے ہوئے لوگ اقتدار میں آ جاتے ہیں۔ ملک و قوم کے لیے قربانیاں دینے کے باوجود انتخابات میں ہمارے راستے روکے گئے۔ صوبائی صدر نے کہا کہ جب تک عوامی مفاد میں پالیسیاں مرتب نہیں کی جاتیں، مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ڈالروں کے عوض ملک و قوم کو ایک پرائی جنگ میں جھونکا گیا، جس کی آگ آج بھی جل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر تو دوسروں نے کمائے، مگر اس جنگ کی سزا آج تک پختون قوم بھگت رہی ہے۔ داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر سنجیدہ نظرِ ثانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبے کی خراب اقتصادی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا اجرا نہیں کیا جا رہا، صوبائی حکومت مرکز سے صوبے کے حقوق اور واجبات لینے میں ناکام ہے، جبکہ مرکز بھی آئینی ذمہ داریوں سے گریزاں ہے۔ موجودہ حالات میں مرکز اور صوبے دونوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تیراہ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں حکومت انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک جو جرگے منعقد ہوئے ہیں، ان میں صوبائی حکومت کے ماتحت ضلعی انتظامیہ شریک رہی، اس کے باوجود حکومت ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم مرکز بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آپسی اختلافات اور بے یقینی کی صورتحال کی بھینٹ چڑھانا کسی صورت جائز اور قابلِ قبول نہیں۔ ان کا مزيد کہنا تھا کہ جیلوں میں قید ہر بیمار قیدی کا علاج اس کا آئینی اور قانونی حق ہے ۔ عمران خان کی بیماری کا علم نہیں مگر جیل مینول کے مطابق علاج سب کا حق ہے۔ تمام قیدیوں کو جائز حقوق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پی ٹی آئی کو بھی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیئے اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے فوری طور پر کھولے جائیں، دہشتگردی کو جواز بنا کر تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو معطل کرنا کسی طور درست نہیں۔ میاں افتخار حسین کے مطابق افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں لانے کے عمل میں پاکستان نے امریکہ کی سہولت کاری کی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب خراب حالات کے باوجود بھارت کے ساتھ تجارت ممکن ہے تو افغانستان کے ساتھ تجارتی روابط کیوں معطل رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کو ہو رہا ہے۔