• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علاقائی تعاون اور سرحد پار آلودگی کنٹرول کئے بغیر پائیدار نتائج ممکن نہیں، رکن عالمی بینک ٹیم

پشاور (خصوصی نامہ نگار) خیبر پختونخوا میں فضائی آلودگی کے تدارک اور سموگ ایکشن پلان پر عالمی بینک کی تکنیکی ٹیم کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ایک اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ صوبائی وفد کی قیادت سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات وجنگلی حیات جنید خان نے کی۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری طلحہ حسین فیصل، ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی اور ادارہ برائے تحفظ ماحولیات کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران عالمی بینک ٹیم کے رکن محمد شفیق نے ایئر شیڈ بیسڈ اپروچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی انتظامی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی، شہری مراکز سے باہر پیدا ہونے والا دھواں اور ذراتی آلودگی ہواؤں کےذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچ کر آبادیوں کو متاثر کرتی ہے، اس لئے علاقائی تعاون اور سرحد پار آلودگی کے کنٹرول کے بغیر پائیدار نتائج ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بامعنی کامیابی صرف اسی صورت حاصل کی جا سکتی ہے جب ٹرانسپورٹ، توانائی، صنعت، زراعت، شہری منصوبہ بندی اور مقامی حکومتوں سمیت تمام شعبے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگی سے کام کریں ۔ عالمی بینک ٹیم نے سیٹلائٹ پر مبنی مانیٹرنگ کے نتائج بھی پیش کئے، جو صوبے بھر میں پی ایم 2.5 کے پھیلاؤ کی جامع اور حقیقی وقت میں تصویر فراہم کرتے ہیں۔ ان مشاہدات کے مطابق خیبر پختونخوا میں وادی پشاور فضائی آلودگی کے شدید دباؤ کا شکار اہم ایئر بیسز میں شامل ہے، جہاں باریک ذرات کی بلند سطح انسانی صحت کے لئے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق ہوا کہ فضائی معیار کے بہتر ضوابط کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تین اسٹریٹجک محاذوں نفاذی نظام کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، اور جدید مانیٹرنگ انفراسٹرکچر کی تنصیب پر کام کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا سموگ ایکشن پلان کی معاونت کے لئے عالمی بینک پی ایم 2.5 کی سطح میں کمی کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گا، جس میں ریگولیٹری اصلاحات، شعبہ جاتی تدارکی اقدامات، ادارہ جاتی استعداد سازی، عوامی آگاہی مہمات اور اسٹریٹجک شراکت داری شامل ہیں۔ ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنید خان نے حکومتِ خیبر پختونخوا کے ماحولیاتی تحفظ اور صاف ہوا کے ایجنڈے سے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی بینک ٹیم کو مکمل ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے سپیشل سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ فوکل پرسن نامزد کیا تاکہ رابطہ کاری کو مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی سی ون کی تیاری شفافیت، تکنیکی معیار اور طویل المدتی پائیداری کے اصولوں کے تحت کی جائے گی، بالخصوص ضلع پشاور میں فضائی معیار کی بہتری کو ترجیح دی جائے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے کہا کہ فضائی آلودگی صوبے کو درپیش سب سے بڑے ماحولیاتی اور عوامی صحت کے چیلنجوں میں شامل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے ساتھ مل کر اس قومی ذمہ داری کی تکمیل کے لئے پوری طرح پرعزم ہے، کیونکہ صاف ہوا محض ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
پشاور سے مزید