پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سیدارشدعلی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سول ججز کی بھرتی کے لئے دو سالہ وکالت کی شرط ختم کرنے کے خلاف خیبرپختون خوا بار کونسل کی رٹ پرصوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ۔گزشتہ روز رٹ کی سماعت شروع ہوئی تو اس موقع پر خیبرپختون خوا بار کونسل کے رکن بابرخان یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ یہ رٹ خیبرپختون خوا بار کونسل کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے 15 دسمبر 2025 کو سول ججز کے بھرتی کے لئے دو سالہ وکالت کی شرط ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیاہے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس وقت پورے ملک میں سول ججز کی بھرتی کے لئے وکالت کی شرط لازمی ہے تمام صوبوں میں دو دو سال جبکہ بلوچستان میں تین سالہ وکالت کی شرط رکھی گئی ہے تاہم خیبرپختون خوا حکومت نے اس کےبرعکس وکالت کی شرط ختم کردی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں سابقہ دور میں جب یہ ترامیم لائی گئی تو اس کو ہائیکورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا جسے برقرار رکھا گیا اور سپریم کورٹ نے یہاں تک اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ دو سالہ وکالت کی شرط رکھی گئی ہے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ تمام فریقین کو اعتماد میں لئے بغیر صوبائی حکومت نے خود سے ایک ترمیم کی اور دو سالہ وکالت کی شرط ختم کردی جس سے عدلیہ کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا اور موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کا یہ اقدام غیرقانونی ہے اور اس سے بہت سے مسائل سامنے آئیں گے جبکہ پہلے دور میں اسی شرط پر باہر ہونے والے وکلاء کے ساتھ بھی یہ حق تلفی ہوگی سول ججز ایک اہم عہدہ ہے اور اگر اس کے لئے وکالت کی شرط رکھی گئی تھی تو یہ ایک بہترین فیصلہ تھا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے اور سابقہ طریقہ کار کو بحال رکھتے ہوئے دو سالہ تجرے کی شرط کو لازمی قرار دیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔