جمرود ،باڑہ (نمائند گان جنگ /نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی کاکہنا ہے کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ان کے وزیراعلیٰ بننے سے ناخوش ہے‘ وزیراعظم شہباز شریف نے آج پیرکو انہیں ملاقات کیلئے بلایا ہے جہاں وہ صوبے کے عوام کا مقدمہ پوری قوت کے ساتھ پیش کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گرینڈ جرگے میں تیراہ کے متاثرین نے واضح کیا کہ وہ اپنے گھروں سے رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے بلکہ انہیں جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔ جرگے کے شرکا نے تیراہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ اس موقع پرسہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں‘صوبے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔وزیر اعلیٰ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وادی تیراہ سے عوام کی نقل مکانی کسی صورت رضاکارانہ نہیں جبری منصوبے کے تحت کروائی گئی جس کی پنڈال میں موجود حاضرین نے دونوں ہاتھ اٹھا کر تائیدکی ‘ وزیر اعلیٰ کاکہناتھاکہ قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے صوبے بھر کے قبائلی اضلاع میں الگ الگ مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے، جن کے بعد خیبر پختونخوا کی سطح پر ایک گرینڈ جرگہ بلا کر اسلام آباد جانے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر سہیل آفریدی اپنے خطاب میں وادی تیراہ کی موجودہ صورتحال پر تین بڑے اور فیصلہ کن اعلانات کیے، جنہیں جرگے میں شریک ہزاروں قبائلی عمائدین اور عوام نے ہاتھ اٹھا کر متفقہ طور پر منظور کیا۔