کراچی (جنگ نیوز) پاکستان کے ورلڈکپ میچ بائیکاٹ کے اعلان نے بھارتی کرکٹ حکام کی نیندیں اڑادی ہیں، وہیں آئی سی سی بھی حیران پریشان ہے۔ پاکستان کے خلاف اس فیصلے پر عالمی تنظیم کا کوئی بھی ممکنہ انتہائی قدم خود اس کی غیرجانبداری کو بٹہ لگادے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نئی نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں جب مختلف ٹیموں نے سیکیورٹی خدشات کے باعث میچ یا ٹور سے انکار کیا تو آئی سی سی نے نرم رویہ اختیار کیا اور ایونٹس کو آگے بڑھایا ۔ 2025 میں بھارت چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان نہیں آیا۔1996 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا جانے سے انکار کیا، مگر آئی سی سی نے کسی پر دباؤ نہیں ڈالا، میزبان ٹیم سری لنکا کو واک اوور دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر میچز سے انکار کیا، مگرکوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوئی ۔2011 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش منتقل کیے گئے ۔ 2021 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت کے بجائے عرب امارات منتقل ہوا ۔ حالیہ صورتحال میں، بنگلہ دیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا، جس پر آئی سی سی نے سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ یا کھیلیں یا باہر ہو جائیں۔ یہی دباؤ پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ پر بھی ظاہر ہو رہا ہے۔