انصار عباسی
اسلام آباد :…پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سیکورٹی فورسز کیخلاف ٹرولنگ اور توہین آمیز مہم میں ملوث افراد اور سوشل میڈیا اکائونٹس سے واضح اور دوٹوک انداز میں لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی میں کوئی ابہام نہیں اور دہشت گردی سے متعلق واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے شہداء پر تنقید کرنے والوں سے واضح طور پر لاتعلقی اختیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف پی ٹی آئی کا موقف مضبوط اور غیر مبہم ہے اور کسی بھی صورت میں سیکیورٹی اداروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق اس معاملے پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی سطح پر بھی غور کیا گیا، جہاں یہ بات واضح طور پر کہی گئی کہ جو کوئی بھی پی ٹی آئی کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کو کمزور کرنے والے بیانیے سے جوڑنے یا شہداء اور سیکیورٹی فورسز پر تنقید و تضحیک کی کوشش کرے، اس سے واضح لاتعلقی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور قومی سلامتی پر پارٹی کا موقف طے شدہ ہے اور اس میں کوئی گنجائش نہیں۔ شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ عمران خان کی پالیسی کے مطابق فوج ان کی اپنی ہے اور پاکستان اور اس کے وجود کیلئے بیحد اہم ہے۔ تاہم، پارٹی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اس باضابطہ موقف کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے ہی سوشل میڈیا ٹرولز سے بڑھتا ہوا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سینئر رہنمائوں کو ڈر ہے کہ فوج مخالف تنقید میں ملوث پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکائونٹس کیخلاف اگر سخت یا واضح کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں منظم ردِعمل اور خود قیادت کیخلاف ذاتی نوعیت کی تنقید شروع ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت اس بات پر بھی فکرمند ہے کہ پارٹی سے وابستہ بااثر ڈیجیٹل آوازیں براہِ راست ٹکرائو کی صورت میں مخالف بن سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہراسانی کی مہمات اور اندرونی سیاسی دبائو پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی دوران ذرائع نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پی ٹی آئی کا موقف بدستور واضح ہے اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہے۔ قیادت کا خیال ہے کہ دہشت گردی پر دو آراء نہیں ہو سکتیں اور سیاسی جماعتیں، حکومت اور ریاستی ادارے عسکریت پسندی کیخلاف مشترکہ موقف کے حامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، فوجی جوانوں، افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو پارٹی ملکی بقا کیلئے ناگزیر تسلیم کرتی ہے، اور ان قربانیوں کا مذاق اُڑانے یا کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول اور نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، پارٹی کا سوشل میڈیا بیرونِ ملک سے چلایا جاتا ہے اور یہ پارٹی کے چیئرمین، سیکریٹری اطلاعات یا حتیٰ کہ سیاسی کمیٹی کے کنٹرول میں نہیں۔