• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلف کی کاروباری خاتون نے جنسی اسکینڈل میں ملوث شخص کو غلاف کعبہ کے مقدس ٹکڑے بھجوائے

کراچی (رفیق مانگٹ) گلف کی کاروباری خاتون نے جنسی اسکینڈل میں ملوث شخص کو غلاف کعبہ کے مقدس ٹکڑے بھجوائے، مقدس کسوہ کے 3 مختلف حصے 2017 میں امریکا پہنچنے کی تفصیلات ایپسٹین فائلز کی ای میلز میں درج، غلاف کعبہ مسلمانوں کیلئے نہایت مقدس، سنی شیعہ سمیت ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں نے اسے چھوا ہے، ای میل میں تحریر، مذہبی تقدس کا اعتراف مگر ترسیل کا مقصد ابہام کا شکار، عزیزہ کی ایپسٹین سے واقفیت کی بھی وضاحت نہیں۔ نئی جاری ہونے والی ایپسٹین فائلز میں ایسے ای میلز شامل ہیں جن میں خانۂ کعبہ کے غلاف (کسوہ) کے مقدس کپڑے کے حصے یاٹکڑوں کی امریکا ترسیل کی تفصیلات درج ہیں۔ یہ ترسیل ایک خلیجی ملک سے منسلک رابطوں کے ذریعے کی گئی اور یہ اشیا سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین تک پہنچائی گئیں۔ فروری اور مارچ 2017 کی خط و کتابت کے مطابق خلیجی ملک میں مقیم کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی نے عبداللہ المعاری نامی شخص کے ساتھ مل کر غلافِ کعبہ سے متعلق تین حصوں کی ترسیل کا انتظام کیا۔ غلافِ کعبہ مسلمانوں کے لیے گہری مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال یہ کپڑا تبدیل کیا جاتا ہے اور پرانے غلاف کے حصوں کو نہایت قیمتی مذہبی نوادرات سمجھا جاتا ہے۔ ایپسٹین فائلز میں موجود ای میلز کے مطابق یہ اشیا سعودی عرب سے برٹش ایئرویز کے ذریعے فضائی راستے سے فلوریڈا بھیجی گئیں۔ اس عمل میں انوائسز، کسٹمز انتظامات اور امریکا کے اندر ترسیل تک مکمل ہم آہنگی شامل تھی۔ پیغامات میں تین الگ الگ حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ایک خانۂ کعبہ کے اندر سے، دوسرا بیرونی غلاف کا استعمال شدہ حصہ، اور تیسرا اسی مواد سے تیار کردہ مگر استعمال نہ ہونے والا ٹکڑا۔ غیر استعمال شدہ ٹکڑے کو ترسیل کے لیے آرٹ ورک کے طور پر درج کرنے کا ذکر بھی کیا گیا۔ یہ کھیپ مارچ 2017 میں ایپسٹین کے گھر پہنچی، اس وقت جب وہ اپنی سزا پوری کر چکا تھا اور بطور جنسی مجرم رجسٹرڈ تھا۔
اہم خبریں سے مزید