• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ اردو، ایڈہاک ازم، ذاتی فیصلے، قواعد کی خلاف ورزیاں، ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان، ایچ ای سی رپورٹ

کراچی(سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی میں انتظامی بدانتظامی، غیر شفاف فیصلوں، غیر قانونی تقرریوں اور ادارہ جاتی گورننس کی ناکامی کی واضح مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں طویل عرصے سے ایڈہاک ازم، ذاتی صوابدید پر فیصلوں اور قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں تعلیمی نظم و ضبط، تدریسی معیار اور ادارے کی مجموعی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو پیش کی گئی کمیشن کی تحقیقات رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اردو یونیورسٹی میں اہم تدریسی اور انتظامی عہدوں پر تقرریاں شفاف اشتہاری عمل اور قانونی فورمز کی منظوری کے بغیر کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی تقرریاں میرٹ کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کی گئیں، جب کہ مستقل تقرریوں کے بجائے ایڈہاک انتظامات کو دانستہ طور پر طول دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایچ ای سی ایکٹ، یونیورسٹی اسٹیٹیوٹس اور منظور شدہ سروس رولز کو بارہا نظرانداز کیا۔ ترقیوں، کنٹریکٹ میں توسیع، اضافی مراعات اور انتظامی اختیارات کے استعمال میں قواعد کی پاسداری نہیں کی گئی، جس سے ادارہ جاتی نظم و ضبط بری طرح متاثر ہوا۔ایچ ای سی تحقیقات کے مطابق اردو یونیورسٹی میں اجتماعی فیصلہ سازی کے بجائے چند افراد کی صوابدید پر فیصلے مسلط کیے گئے۔ سینڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل اور دیگر قانونی فورمز کو نظرانداز کرنے کا رجحان رپورٹ میں بطور سنگین ادارہ جاتی خامی درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یونیورسٹی میں انسانی وسائل کے انتظام، اساتذہ کی کارکردگی جانچنے اور شکایات کے ازالے کا نظام غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ شکایات کو یا تو دبایا گیا یا طویل عرصے تک التوا میں رکھا گیا، جب کہ ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کے شواہد نہیں ملے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق بدانتظامی اور گورننس کی خرابیوں نے نہ صرف تدریسی و تحقیقی معیار کو متاثر کیا بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے اعتماد کو بھی مجروح کیا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اصلاحی اقدامات کے بغیر یونیورسٹی کا ادارہ جاتی زوال مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ ایچ ای سی نے سفارش کی ہے کہ تمام غیر قانونی تقرریوں اور انتظامی فیصلوں کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف واضح تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے، تقرریوں، ترقیوں اور انتظامی معاملات میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے، یونیورسٹی میں گورننس اور احتساب کے نظام کو ایچ ای سی قوانین کے مطابق فعال بنایا جائے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایچ ای سی سے سفارشات پر عملدرآمد کی جامع رپورٹ اور ٹائم لائن طلب کر لی ہے، جب کہ عندیہ دیا گیا ہے کہ غفلت کی صورت میں معاملے کو مزید سخت پارلیمانی نگرانی میں لایا جائے گا۔
اہم خبریں سے مزید