• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کو 15 ماہ میں دو بار سنگین الزمات پر ہٹایا گیا

کراچی(مطلوب حسین /اسٹاف پورٹر) سندھ پولیس میں ڈی آئی جی رینک پر تعینات پیر محمد شاہ کو گزشتہ 15 ماہ کے دوران 2 مرتبہ سنگین الزامات کی وجہ سے عہدے سے ہٹایاگیا ،اکتوبر 2024 میں مبینہ طور پرکچے کے ڈاکوئوںکی سرپرستی کے الزم پرڈی آئی جی سکھر اور جنوری 2026 میں ا اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کراکر تاجردانش میمن کو غیر قانونی طریقہ سے گرفتارکرانے کے الزام میں ڈی آئی جی ٹریفک کے عہدے سے ہٹایا گیا ،اس سلسلہ میں موقف جاننے کے لئے ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کوان کے نمبر پر متعدد بار کال کی گئی تاہم انکا نمبر مسلسل بند آیا اور پیر محمد شاہ کے واٹس ایپ پر میسج بھی ارسال کیا گیا تاہم ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوسکا۔ ،تفصیلات کے مطابق سندھ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس(ڈی آئی جی) کے عہدے پر تعینات سید پیر محمد شاہ گذشتہ 15 ماہ کے دوران 2 مرتبہ سنگین الزامات کا سامنے کرتے ہوئے عہدے سے ہٹائے گئے،اکتوبر 2024 میں ایس ایس پی گھوٹکی کی جانب سے ایک ویڈیو بیان میں اس وقت کے ڈی آئی جی سکھر سید پیر محمد شاہ پر کچے کے ڈاکوئوں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس اس وقت کے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نےپر پیر محمد شاہ کو ڈی آئی جی سکھرکے عہدے سے ہٹا کرالزامات کی انکوائری کرانےکرانے کے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی ،تاہم4ماہ بعد محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن ائنڈ کورآرڈی نیشن کی جانب سےسید پیر محمد شاہ کو ڈی آئی جی ٹریفک کراچی رینج تعینات کردیا گیا،تقریبا 1سال ڈی آئی جی ٹریفک کراچی رینج کے عہدے پر رہنے کے بعد جنوری 2026 میں ایک مرتبہ پر پھر ڈی آئی جی سید پیر محمد شاہ پر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کر کے تاجر کو اغواء کروانے جیسا سنگین الزام پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی رینج کے عہدے سے بھی ہٹادیا گیا ،ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پر اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کراکر تاجردانش میمن کو غیر قانونی طریقہ سے گرفتارکرانے سے متعلق 16 جنوری 2026 کوآئی جی سندھ جاوید عالم اوڑھو کی جانب وضاحت طلب کی گئی تھی ۔
اہم خبریں سے مزید