• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروباری تنازع پر ایف آئی آر کا اندراج، سندھ ہائی کورٹ برہم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کاروباری تنازعہ پر ایف آر کا اندراج ، سندھ ہائی کورٹ برہم، عدالت نے اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کےخلاف آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا، اے وی سی سی حکام حقائق پر مبنی سچے مقدمات درج کریں تو ملزمان کو سزائیں بھی ہونگی،جسٹس عدنان الکریم۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان الکریم میمن نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ اے وی سی سی حکام حقائق پر مبنی سچے مقدمات درج کریں تو ملزمان کو سزائیں بھی ہوں گی، بصورت دیگر جتنی چالاکیاں کر لیں عدالت سے چھپ نہیں سکتے۔ عدالت عالیہ نے کاروباری تنازعہ پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کے خلاف آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا ہے۔ پیر کو ہائی کورٹ میں کاروباری تنازعہ پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مدعی مقدمہ دانش متین اور ملزم فیصل حمید کے درمیان 31 کروڑ لین دین کا تنازعہ ہے۔ 22 جنوری کو گزری پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف چیک باؤنس کے مقدمات درج کرائے ہوئے ہیں۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں تو اغواء برائے تاوان کا الزام شامل نہیں۔ پولیس نے اغواء برائے تاوان کا الزام کیسے شامل کیا، اس میں تو موت کی سزا ہوتی ہے۔ اے وی سی سی کے تفتیشی افسر نے کہا کہ ضمنی چالان کے ذریعے اغواء برائے تاوان کا الزام شامل کیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ فریقین کے درمیان کاروباری تنازعہ پہلے سے چل رہا تھا تو اغوا کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کا سی آر او کیوں نہیں کروایا گیا؟ آپ جانتے تھے کہ سی آر او کروایا تو اغوا کا مقدمہ کمزور ہوگا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ ٹرینڈ بن گیا تو پولیس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوگا۔ پولیس بھی تو 3، 4 دن رکھنے کے بعد گرفتاری شو کرتی ہے۔
اہم خبریں سے مزید