انصار عباسی
اسلام آباد :…سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان حکومت نے سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے قریبی تعاون سے صوبے بھر میں دہشت گردی کے خاتمے، عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خاتمے اور داخلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک کثیر سطحی مہم شروع کر رکھی ہے۔ دی نیوز کی درخواست پر حکومت بلوچستان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی اس مہم کا بنیادی محور صوبہ بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنز ہیں، جن کا ہدف دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں، اسلحے، لاجسٹکس اور مالی معاونت کے نیٹ ورکس ہیں۔ یکم جنوری سے 31؍ دسمبر 2025ء کے دوران مجموعی طور پر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 90؍ ہزار 224؍ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 784؍ دہشت گرد ہلاک یا ناکارہ بنائے گئے۔ اس صورتحال کو حکام صوبے میں عسکریت پسند انفراسٹرکچر کو لگنے والا ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہیں۔ اداروں کے مابین ہم آہنگی کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (پفٹیک) کو فعال کیا گیا ہے، جو خطرات کے تجزیے، ترجیحات کے تعین اور مشترکہ کارروائی کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پفٹیک میں پولیس، انسدادِ دہشت گردی محکمہ، اسپیشل برانچ، لیویز ٹرانزیشن اسٹرکچر، فرنٹیئر کور اور سول انتظامیہ سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کیا جاتا ہے، جس سے تیز اور مربوط کارروائیاں ممکن ہو پائی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ ہم آہنگی اس وقت مزید مضبوط ہوئی جب سی ٹی ڈی، انٹیلی جنس بیورو، پولیس، اسپیشل برانچ اور ملٹری انٹیلی جنس کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر صورتحال رپورٹس کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دی گئی، جس سے مشترکہ آپریشنل صورتحال کی تیاری اور تیز فیصلہ سازی ممکن ہوئی۔ ضلعی رابطہ کمیٹیوں کو بھی نصب شدہ آلات، لائیو ڈیش بورڈز اور نامزد فوکل پرسنز کے ذریعے مکمل طور پر منسلک کر دیا گیا ہے۔ انتظامی سطح پر محکموں میں کارکردگی کے جائزے کیلئے کارکردگی کے اشاریوں یعنی KPIs پر مبنی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (نفٹیک) کے ساتھ معمول کے مطابق معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کو ختم کر کے اسپیشل برانچ میں ضم کر دیا گیا ہے، تاکہ دہرے پن کا خاتمہ اور داخلی سلامتی سے متعلق انٹیلی جنس کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ایک بڑی ساختی اصلاح کے طور پر بی ایریا کو اے ایریا میں تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد طویل عرصے سے موجود گرے زونز کا خاتمہ، پولیسنگ کے انتظامات کو یکساں بنانا اور کمزور حکمرانی والے علاقوں میں حکومت کی بالادستی (رِٹ) کا نفاذ ہے۔ اطلاعاتی جنگ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے غلط معلومات اور بیانیے کے مقابلے کیلئے ایک منظم حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت ردعمل پر مبنی بیانات کے بجائے پیشگی، حقائق پر مبنی ابلاغ کو قانونی نفاذ کی معاونت کے ساتھ اپنایا گیا ہے۔ غلط معلومات اور مخالف پروپیگنڈے کی نگرانی اور بروقت جواب کیلئے ’’نظربان‘‘ نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد کیلئے سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کا آغاز کیا گیا ہے، جو تحقیق، تربیت، نوجوانوں کی شمولیت اور پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرے گا، جبکہ فائیو آرز فریم ورک پر مبنی سی وی ای پالیسی گائیڈ لائنز پر روڈمیپ تیار کیا جا رہا ہے۔ لیگل فریم ورک کو بھی نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے۔ نافذ کردہ اہم قوانین میں کاؤنٹر وائلنس اینڈ ایکسٹریمزم ایکٹ 2024ء اور سیکیورٹی آف ولنریبل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2024ء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم 11-EEEE بمعہ قواعد 2026، ترمیم 21-AAA برائے فَیس لیس عدالتیں، وِٹنس پروٹیکشن ترمیم 2025ء اور بی ایف ایس اے ترمیم 2025ء کا مقصد پراسیکیوشن، گواہوں کے تحفظ اور عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ 11-EEEE فریم ورک کے تحت حراستی مراکز کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ فعال کیا گیا ہے، جن میں لازمی طبی معائنہ، اہل خانہ تک رسائی اور جسمانی تشدد پر سخت پابندی شامل ہے۔ فورتھ شیڈول کے تحت نگرانی کو مزید سخت کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں 800؍ افراد کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، تفتیش اور پراسیکیوشن کی صلاحیت میں بھی واضح بہتری آئی ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران 528 پراسیکیوشن منظوریاں دی گئیں، 145؍ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور 25؍ میوچول لیگل اسسٹنس کیسز وزارت داخلہ کو بھجوائے گئے۔ کیس مینجمنٹ کلین اپ کے تحت 105؍ مقدمات خصوصی برانچوں کو منتقل کیے گئے اور جہاں قانوناً ضروری تھا وہاں 12؍ ایف آئی آرز ختم کی گئیں۔ عدالتی نتائج میں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں 2024ء میں 339؍ اور 2025ء میں 435؍ مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ کامیابی کی شرح بالترتیب 85؍ اور 84؍ فیصد رہی۔ ڈیجیٹائزیشن کو سیکیورٹی گورننس کا ایک مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے ای آفس اور ڈاکیومنٹ مینجمنٹ سسٹمز، ایچ آر ایم آئی ایس اور حاضری کا بایومیٹرک یا جیو فینسڈ نظام نافذ کیا ہے۔ سیکیورٹی سے متعلق ڈیجیٹائزیشن میں بی آئی ایس اے اور فورتھ شیڈول کیلئے مانیٹرنگ ماڈیولز، جرائم اور واقعات کے ڈیش بورڈز، شکایتی نظام اور مالی و خریداری کے امور کی ڈیجیٹائزیشن شامل ہے۔ فیلڈ مانیٹرنگ کو جیو ٹیگنگ، وقت کے اندراج پر مبنی رپورٹس اور لاجسٹکس ٹریکنگ کے حامل موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بہتر بنایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ اصلاحات مصدقہ سروس ڈیلیوری کے ذریعے پروپیگنڈے کے تدارک میں بھی معاون ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے ساتھ صوبے میں انسداد منشیات اور نارکو ڈسرپشن آپریشنز کو بھی وسعت دی گئی ہے۔ 17 اضلاع میں 43؍ ہزار 27؍ ایکڑ رقبے کا سروے کیا گیا، 4؍ ہزار 219؍ ایکڑ پر کاشت کی گئی پوست تلف کی گئی، 427؍ بورز مسمار اور 518؍ سولر سسٹمز ضبط کیے گئے۔ 56؍ ایف آئی آرز درج اور 368؍ افراد کو فورتھ شیڈول کے تحت مانیٹر کیا گیا۔ ان آپریشنز میں ٹریکٹرز، ڈرونز اور اسپرے مشینوں سمیت بہتر لاجسٹکس معاونت فراہم کی گئی۔ سیکیورٹی منصوبوں کیلئے مختص فنڈز کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر 6؍ ارب روپے کی مختص رقم میں سے تقریباً 2؍ ارب 5؍ کروڑ 90؍ لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 3؍ ارب 94؍ کروڑ 20؍ لاکھ روپے دستیاب ہیں۔ پولیس اسٹیشنز اور چوکیوں کی مضبوطی کے منصوبوں میں پی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری، فنڈز کے اجراء اور ٹینڈرنگ کا عمل مکمل ہے، جبکہ اضلاع کی سطح پر رقوم جاری کی جا چکی ہیں۔ حکام مجموعی حکمت عملی کو ایک مربوط سیکیورٹی ماڈل قرار دیتے ہیں، جس میں کائنیٹک کارروائیاں، پائیداری، ادارہ جاتی ہم آہنگی، ڈیجیٹائزیشن اور انسدادی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن واپسی کے پروگرام پر بڑے پیمانے پر عمل درآمد کیا گیا، نتیجتاً دس لاکھ سے زائد افغان باشندے واپس بھیجے گئے، اور سہولت کاری کے خطرات، شناخت کے غلط استعمال اور گرے آبادی سے متعلق خدشات کم ہوئے۔ متعلقہ قانونی اصلاحات کے تحت بلوچستان اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد) ایکٹ 2025ء نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ اور تنازعات کے فوری حل کیلئے خصوصی عدالتوں کا قیام ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق، ان اقدامات کے مجموعی اثرات کے نتیجے میں بلوچستان میں ایک زیادہ مربوط، قانونی بنیادوں پر قائم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ سیکیورٹی ڈھانچہ قائم ہوا ہے جس کا مقصد نہ صرف دہشت گردی کا سدباب بلکہ صوبے بھر میں امن اور ریاستی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔