• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق کر دی

اسلام آباد(تنویر ہاشمی )ملک گیر سروے میں عوام کی اکثریت 67 فیصد نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق کر دی، 68 فیصد کی رائے ہے کہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے جبکہ 56 فیصد نے اقربا پروری عام قرار دے دی، شفافیت کے اشاریے میں اسلام آباد سرفہرست، پنجاب، خیبر پختونخوا نمایاں ، ایف پی سی سی آئی نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر کرائے جانے والے سروے کے نتائج جاری کردیئے ، آئی ٹیپ ( انڈیکس آف ٹرانسپرنسی اینڈ اکاؤنٹبیلٹی)نے سروےمعروف سروے فرم آپسوس کے ساتھ مل کر کیا ،سروے کے نتائج کے مطابق مختلف انواع کی بدعنوانی کے بارے میں "عوامی تاثر" اور "ذاتی تجربے یا ذاتی مشاہدے" میں واضح فرق سامنے آ گیا68، فیصد رائے دہندگان کے "تاثر" کےمطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہےتاہم صرف 27 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر ایسی صورتحال کا سامنا ہوا جہاں ان سے رشوت مانگی گئی،56 فیصد رائے دہندگان کے تاثر کے مطابق سرکاری اداروں میں اقربا پروری عام ہے لیکن صرف 24 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہوں نے ایسی صورتحال بھگتی ہے جہاں اقربا پروری نے میرٹ کی خلاف ورزی کی ، 59 فیصد رائے دہندگان کے مطابق سرکاری اداروں یا عہدہ داروں میں غیر قانونی ذرائع سے دولت بنانے کا رجحان موجود ہے تاہم صرف 5 فیصد نے کہا کہ انہوں نے کسی سرکاری ملازم کو غیر قانونی طریقے سے دولت بناتے ہوئے خود دیکھا ، ملک گیر سروے 6018 رائے دہندگان کی آراء سے مکمل کیا۔ 67 فیصد رائے دہندگان کے مطابق انہیں کسی بھی قسم کی بد عنوانی کا تجربہ نہیں ہوا، 73 فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی،76 فیصد رائے دہندگان کا اقرباء پروری سے کوئی واسطہ نہ پڑنے کا انکشاف کیا گیا۔
اہم خبریں سے مزید