• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بقایاجات کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے، اے پی این ایس

کراچی (جنگ نیوز) بقایاجات کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے، پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کے مجموعی حجم میں منصفانہ حصہ دیا جائے، اے پی این ایس کا اجلاس، ڈان میڈیا گروپ کو 15ماہ سے سرکاری اشتہارات کی مکمل بندش پر شدید تشویش کا اظہار۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) نے ایک اعلامیہ میں ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات کی مکمل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 3 فروری 2026 کو کراچی میں منعقدہ اجلاس میں ایک خصوصی قرارداد منظور کی، جس میں گزشتہ 15 ماہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات پر مکمل پابندی پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے نشاندہی کی کہ قائداعظم کے جاری کردہ اس اخبار کو بقا کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔اے پی این ایس کی متفقہ رائے میں روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات سے محروم کرنا ناانصافی اور آزادی اظہار پر حملہ ہے۔ اے پی این ایس سمجھتی ہے کہ یہ اقدام میڈیا گروپ کو اپنی اداراتی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اے پی این ایس نے اس امر کو دہرایا کہ سرکاری اشتہارات قومی خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں، لہٰذا انہیں اخبارات کی ایڈیٹوریل پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر مالی دباؤ اور گھٹن کے اس مشکل وقت میں ڈان میڈیا گروپ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اخباری صنعت کے لئے سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں اضافے سے متعلق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے تین سال قبل کئے گئے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے اور وفاقی حکومت کی مسلسل عدم توجہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس تاخیر کے باعث نہ صرف اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہے بلکہ یہ اس امر کا اظہار بھی ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے نوٹ کیا کہ پی آئی ڈی اسلام آباد نے 2020؁ء کی نئی اشتہاری پالیسی کے بعد جاری کئے گئے اشتہارات سے متعلق رکن مطبوعات کے واجبات کا بڑا حصہ تاحال ادا نہیں کیا۔ اراکین نے پی آئی ڈی سے مطالبہ کیا کہ بقایاجات کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے اور پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کے مجموعی حجم میں منصفانہ حصہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اشتہارات جاری کرنے والے مشتہرین کو اپنی پسند کے مطابق میڈیا تجویز کرنے کا حق دیا جائے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ایگزیکٹو کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سندھ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (SID) کی جانب سے جاری کئے جانے والے اشتہارات کے مجموعی حجم میں اخبارات کا حصہ انتہائی کم سطح پر پہنچ گیا ہے، جبکہ نان بجٹڈ اشتہارات کی ادائیگیاں اور دیگر بقایاجات بھی تاحال ادا نہیں کی گئیں۔ اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ عہدیداران وزیرِ اطلاعات سندھ، جناب شرجیل انعام میمن سے ملاقات کریں گے اور انہیں سندھ کے اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کریں گے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے میسرز بیلنس پبلسٹی (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور اور میسرز ریڈ اوشن کمیونیکیشنز اینڈ پی آر (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور کی عبوری ایکریڈیٹیشن کی درخواستوں کی منظوری دی۔اس کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی نے میسرز سلوشن 1، کراچی کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میںسینیٹر سرمد علی صدر، شہاب زبیری نائب صدر، محمد اطہر قاضی سیکرٹری جنرل، محسن بلال جوائنٹ سیکرٹری، محسن سیال ،بلال فاروقی، نجم الدین شیخ، محمد یونس مہر،قاضی اسد عابد، سید اکبر طاہر، فیصل شاہجہاں، جاوید مہر شمسی، عامر ملک، زاہدہ عباسی، سلمان قریشی، ایس ایم منیر جیلانی، مبشر میر، ابراہیم فیصل، ہمایوں گلزار اور عرفان اطہر جبکہ ممتاز علی پھلپوٹو نے بطور مبصر شرکت کی۔ وسیم احمد، عنصر محمود بھٹی، فوزیہ شاہین، بلال محمود نے بذریعہ زوم شرکت کی۔
اہم خبریں سے مزید