کراچی (اسٹاف رپورٹر) حافظ نعیم کو کہیں سے گرین سگنل ملا ہوتا تو ان کی ایف آئی آر نہیں کٹتی، جماعت اسلامی والے آج بھی مرد مومن مرد حق والا دور سمجھتے ہیں اب ان کی دال نہیں گلتی، دھرنے کی اجازت مانگیں گے تو حکومت دیکھے گی مزار قائد پر جلسہ کر لیں لیکن سڑکوں کو بلاک نہیں کرنے دوں گا ،سب سے بڑا بابو میں ہوں جب وقت آتا ہے تو اپنی آستینیں چڑھالیتاہوں ،وہ کارساز پر واقع کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے صدر دفتر میں KW&SC Unified App کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی اپنی تصاویرلگاکر خود پسندی اور نمائش کی سیاست کررہے ہیں کبھی کبھی دل کرتا ہے انہیں تحفے میں آئینہ دیدو ں تاکے یہ خود کو دیکھتے رہیں ،نعیم الرحمنٰ کی قسمت میں میئر بننا نہیں لکھا تھا نہیں بنے، میرا میئر بننا لکھا تھا میں بن گیا،میرے خلاف عدم اعتماد لانی تھی تو 15 جون 2023ء میں لے آنی چاہیئے تھی لیکن وہ نہیں لائے،حافظ نعیم اس وقت یوسی کی ذمہ داری نبھارہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے ایم پی اے کا حلف لیا ہے،کراچی والد صاحب کا مال نہیں ہے،آج میں باپ کا مال نہیں کہو ںگا آج میرا موڈ مختلف ہے ،سب سے بڑا بابو میں ہوں جب وقت آتا ہے تو اپنی آستینیں چڑھالیتاہوں آج میں نے شلوار قمیض نہیں سوٹ پہنا ہوا ہے آج ذرا ریسپیکٹ کے ساتھ بات کرونگا، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ترقیاتی کاموں کیلئے ایم کیو ایم کو تو پیسے دیئے ہیں لیکن اپنے یوسی چیئرمین کو نہیں دیئے، پاکستان کے وزیر اعظم میرے بھی وزیر اعظم ہیں میں ان کی فکر کیوں نہ کروں انہیں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔