کراچی ( جنگ نیوز ) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام کانفرنس بعنوان کم از کم اجرت کے نفاذ پر مؤثر عمل درآمد سے پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے کمزور طبقوں خصوصاً مزدوروں کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہورہے ہیں، سندھ کی 80 فیصد صنعتوں میں محنت کشوں کو کم ازکم اجرت نہیں ملتی اور یہی رجحان ملک بھر میں نظر آتا ہے، یونین سازی ہر شہری کا حق ہونے کے باوجود 98 فیصد مزدور اپنے اس حق سے محروم ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں کم از کم تنخواہ کی جگہ Living Wage مقرر کی جائے، کرپشن اقربا پروری اور گڈ گورننس کا فقدان مسائل کے حل نہ ہونے کی ایک اہم وجہ ہے، کم از کم اجرت کے تعین کے لیئے ایک ماہر معیشت کو بطور مشیر ویج بورڈ میں شامل کیا جائے ،کانفرنس سے پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر، ظحافی حسین نقی، ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور اور دیگر نے خطاب کیا۔