• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان، بعض اضلاع میں جھڑپیں جاری، ہیلی کاپٹرز اور ڈرون بھیجے گئے، وزیراعلیٰ، 197 دہشت گرد مارے جاچکے، سیکورٹی ذرائع

اسلام آباد ( جنگ نیوز) بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 197 دہشتگرد مارے جا چکے، سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ 36شہری اور 22سکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں، حملہ آور وں نےبینک، جیلیں، پولیس اسٹیشن اور فوجی مراکز نشانہ بنائے۔ بعض اضلاع میں ابھی بھی جھڑپیں جاری ہیں ، حکومت نے ہیلی کاپٹرز اور ڈرون بھیجے ،وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کلیئرہیں،حکومت دہشت گردوں کا پیچھا کر رہی ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں ہفتے سے جاری علیحدگی پسند حملوں میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 197عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں، جبکہ کم از کم 36 شہری اور 22 سکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے۔ حملہ آور بینک، جیلیں، پولیس اسٹیشن اور فوجی مراکز نشانہ بناتے رہے اور بعض اضلاع میں ابھی بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ پاکستان نے صحرا میں محاصرے کو ختم کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز اور ڈرون بھیجےبلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ متاثرہ اضلاع کلیئر کر دیے گئے ہیں اور حکومت دہشت گردوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جو کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور فوجی، پولیس اور سول انتظامیہ کے اہلکاروں کو ہدف بنایا۔ گزشتہ برس بھی یہ گروہ 450 مسافروں پر مشتمل ایک ٹرین پر حملہ کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے ان حملوں کو "بزدلانہ اور وحشیانہ" قرار دیا ہے۔ 
اہم خبریں سے مزید