کراچی( اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں 14 سال بعد بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد، ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے 4ممالک کی پارلیمانوں اور 17ریاستی اسمبلیوں کے 150 سے زائد اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، پارلیمنٹیرینز اور اعلیٰ حکام کی شرکت۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس کا انعقاد ،سندھ اسمبلی 14 سال بعد ایک بار پھر بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کر رہی ہے،کانفرنس کا موضوع ”مستقبل کی پارلیمانیں: اعتماد، شمولیت، جدت اور امن کے ذریعے جمہوریت کی نئی تعریف" تھا۔ کانفرنس میں ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے 4 ممالک کی پارلیمانوں اور 17 ریاستی اسمبلیوں کے 150 سے زائد اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، پارلیمنٹیرینز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔کانفرنس کے افتتاحی سیشنز میں جمہوری اداروں کے استحکام، پارلیمانی مفاہمت، عوامی اعتماد کی بحالی، شفافیت، شمولیت، مصنوعی ذہانت، ماحولیاتی چیلنجز اور علاقائی امن پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔سندھ اسیمبلی کے اسپیکر اویس قادر شاہ نے ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل اور دوسری مشترکہ ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا کانفرنس کے افتتاح پر معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تاریخی، تہذیبی اور جمہوری شناخت کو اجاگر کیا اور عالمی سطح پر جاری جنگوں، ماحولیاتی تبدیلی، غربت، انتہا پسندی اور جدید ٹیکنالوجی کے چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے مکالمے، پارلیمانی تعاون اور جمہوری اقدار کے فروغ کو امن اور ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور سی پی اے کو خطے میں مؤثر پارلیمانی پلیٹ فارم بتایا۔اسپیکر نے سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں کے دریائے سندھ نے نہ صرف زرخیزی بلکہ دیگر ممالک سے روابط بھی قائم کیے۔ انہوں نے موہنجوداڑو اور مکلی کے آثار قدیمہ کا ذکر کرتے ہوئے سندھ کی عظیم تہذیب، ثقافت اور امن کی روایت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دھرتی ہے، یہ دنیا کی کم عمر ترین خاتون وزیر اعظم اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی دھرتی ہے.سی پی اے کے چیئرپرسن ڈاکٹر کرسٹوفر کلیلا نے شمولیت، جدت، شفافیت اور اخلاقی قیادت کو مستقبل کی پارلیمانوں کے بنیادی ستون قرار دیا اور خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور معذور افراد کی مؤثر نمائندگی پر زور دیا۔سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سی پی اے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی فورم سے خطاب ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت سیاسی عدم اعتماد، ماحولیاتی بحران، ڈیجیٹل چیلنجز اور جمہوری کمزوریوں جیسے سنگین مسائل سے گزر رہی ہے۔انہوں نے سی پی اے اور سندھ اسمبلی کی جانب سے بروقت کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ شرجیل میمن کے مطابق مضبوط، شفاف، جامع اور جدید پارلیمانیں ہی مضبوط جمہوریتوں کی بنیاد ہوتی ہیں، جبکہ امن، مکالمہ اور علاقائی تعاون جمہوری استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔مہمان خصوصی، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں کامن ویلتھ پارلیمانی وفود کا اجتماع جمہوریت، پارلیمانی اقدار اور عالمی تعاون سے وابستگی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی عمارت قیامِ پاکستان کے تاریخی لمحات کی شاہد و امین ہے اور سندھ ہمیشہ جمہوری اقدار، ثقافت اور فکری ورثے کا مرکز رہا ہے۔ا