ٹوکیو(عرفان صدیقی)افریقہ کے ملک انگولا میں ریئر ارتھ ایلیمنٹس، ڈائمنڈ، سونا اور کاپر پر مشتمل 97 ٹریلین ڈالر مالیت کے نایاب معدنی ذخائر دریافت ہونے کے بعد عالمی سطح پر مائننگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ ذخائر آسٹریلین اور ملائیشین مائننگ کمپنیوں کی جانب سے طویل تحقیق اور سائنسی ٹیسٹنگ کے بعد رپورٹ کیے گئے ہیں، جن میں 17 انتہائی قیمتی ریئر ارتھ ایلیمنٹس شامل ہیں۔اس بڑے مائننگ منصوبے کے لیے پاکستان کے سابق سینیٹر اور معروف سیاستدان فیصل رضا عابدی کو باضابطہ طور پر چیف کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبہ پان افریقن ٹوبیکو کمپنی اور متحدہ عرب امارات کے رائل بزنس گروپ کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے،۔جاپان میں منصوبے کی پیش رفت اور رابطہ کاری کے لیے پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین کو باضابطہ طور پر جاپان میں منصوبے کا کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے، جو جاپانی سرمایہ کاروں اور صنعتی اداروں کے ساتھ لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ ذرائع کے مطابق جاپان کی معروف کمپنیاں مٹسوبشی اور ہٹاچی جبکہ جنوبی کوریا کی بڑی صنعتی کمپنی سام سنگ نے بھی اس مائننگ منصوبے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات اور تعاون کے امکانات پر بات چیت کے لیے فیصل رضا عابدی اس وقت جاپان میں موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف انگولا بلکہ پاکستان کے لیے بھی مستقبل میں اہم معاشی اور تکنیکی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔