• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو دوست اور اسٹرٹیجک پارٹنر تصور کرتے ہیں، قازق صدر

اسلام آباد ( اعزاز سید ) قازق صدر توکایف نے کہا ہے کہ قازقستان پاکستان کو ایک دوست ملک اور ایک اسٹرٹیجک پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے جس نے بین الاقوامی برادری میں عزت حاصل کی ہے۔ ٹرمپ دوراندیش رہنما ہیں،پالیسیوں کا حامی ہوں، اسرائیل سے عمدہ تعلقات ہیں،معاہدہ ابراہیمی دوراندیشانہ اقدام ہے۔ غزہ کے مستقبل کے پرامریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی منصوبہ بندی اچھی اورحقیقت پسندانہ ہے۔ڈنمارک گرین لینڈ امریکا کو لیز پر دے سکتا ہے۔ روس اور یوکرائن میں دیانتدار بروکربن سکتے ہیں۔اسلام آباد میں دی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نےمتعدد موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ان کاکہنا تھا کہ 1992 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد سے، ہمارے دونوں ممالک نے مشترکہ مفاد کے کئی مسائل اور منصوبوں پر مل کر کام کیا ہے۔ ہم اہم بین الاقوامی تنظیموں بشمول شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، تنظیم تعاون اسلامی (OIC) اور CICA کے اندر قریبی اور ثمر آور تعامل برقرار رکھتے ہیں، اور عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کی مشترکہ طور پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔وسطی ایشیائی ریاستوں میں، قازقستان ایک بااثر اور حکمت عملی کے اعتبار سے اہم ترین ریاستوں میں سے ایک کے طور پر نمایاں ہے۔ اس کے دراز قد صدر کثیر اللسان ہیں جو چینی، روسی، انگریزی، اطالوی اور کئی دیگر زبانیں روانی سے بولتے ہیں۔اپنے دورے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومتوں اور کاروباری اداروں نے 60 سے زیادہ دو طرفہ دستاویزات پر دستخط کیے، جو دو طرفہ تعاون کو مضبوط تحریک دیں گے۔ اقتصادی تعاون کے ترجیحی شعبوں میں نقل و حمل اور لاجسٹکس، زراعت، صنعت اور مینوفیکچرنگ، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور کئی دیگر شعبے شامل ہیں۔ میں اپنے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور باہمی فائدے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے نمایاں مواقع دیکھتا ہوں۔ ہماری ایک اہم ترجیح دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطہ ہماری شراکت داری کے مرکز میں ہیں۔ ہمارا مقصد سیاسی خواہش کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنا ہے، خاص طور پر عوام سے عوام کے رابطوں کے ذریعے تجارت کی توسیع، سرمایہ کاری کو توسیع دینا ہے۔ اس تناظر میں، قازقستان قازقستان-ترکمانستان- افغانستان-پاکستان راہداری کی تعمیر میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، جسے ہم علاقائی رابطے اور جنوب ایشیائی بازاروں تک رسائی کے لیے حکمت عملی کے لحاظ سے اہم سمجھتے ہیں۔ مجھے یہ نوٹ کر کے خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان نے بھی اس حکمت عملی کے لحاظ سے اہم منصوبے میں قریبی ہم آہنگی کے حوالے سے بہت مثبت رویہ دکھایا ہے۔ ہم ٹرانزٹ اور نقل و حمل کے اقدامات کی کامیاب تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی فعال اور مربوط شرکت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے طرز صدارت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک مضبوط اور دور اندیش رہنما ہیں جو اپنے ملک کے قومی مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید