بھارتی فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے رپورٹر پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
نصیرالدین شاہ نے ایک ناخوشگوار واقعے کا انکشاف کیا ہے، جس میں ممبئی یونیورسٹی نے انہیں بغیر کسی وضاحت یا معذرت کے ’جشنِ اردو‘ نامی تقریب سے آخری وقت میں مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے یہ واقعہ ایک بھارتی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں بیان کیا، جس کے بعد وہ میڈیا نمائندوں کی جانب سے مسلسل سوالات اور ہراسانی کا نشانہ بنے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران نصیرالدین شاہ نے رپورٹر سے کہا کہ میں اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتا، براہِ کرم مجھے ہراساں نہ کریں، جب رپورٹر نے مزید سوالات کیے تو اداکار نے کہا کہ آپ مائیک میرے چہرے پر کیوں دھکیل رہے ہیں؟ آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں، مائیک میرے چہرے سے ہٹائیں۔
نصیرالدین شاہ نے کہا کہ کیا آپ دیکھ نہیں سکتے کہ میں سفر سے آیا ہوں؟ میں نے شائستگی سے کہا ہے کہ میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا، پھر آپ مجھے کیوں ہراساں کر رہے ہیں؟
جب رپورٹر نے ہراسانی کی تردید کی تو اداکار نے جواب دیا آپ مجھے ہراساں کر رہے ہیں، کیا آپ میری بات سمجھ رہے ہیں؟
رپورٹر کے رویے پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں متعدد صارفین نے رپورٹر غیر پیشہ ورانہ رویے پر تنقید کی ہے۔
ایک صارف نے لکھا ہے کہ مہذب معاشرے میں ایسے رپورٹر کو جیل میں ہونا چاہیے جبکہ ایک اور صارف نے کہا ہے کہ میں یہ ویڈیو دیکھ کر رپورٹر کو تھپڑ مارنا چاہتا تھا۔
اپنے کالم میں نصیرالدین شاہ نے لکھا کہ ممبئی یونیورسٹی کے اردو شعبے کے زیرِ اہتمام یکم فروری کو ہونے والی جشنِ اردو کی تقریب میں شرکت کے لیے میں بے حد پُرجوش تھا کیونکہ اس سے طلبہ سے بات چیت کا موقع ملتا، تاہم 31 جنوری کی رات مجھے بغیر کسی وجہ کے تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا اور کسی قسم کی معذرت بھی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں یونیورسٹی کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ میں نے خود تقریب میں شرکت سے انکار کیا ہے، جو مزید توہین آمیز عمل تھا۔
نصیرالدین شاہ بھارتی سنیما کے ان باوقار اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے متعدد فلموں میں اپنی اداکاری سے ناقدین اور شائقین سے بھرپور داد حاصل کی ہے۔