• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ ازبکستان آئیں اور مارکیٹ کا جائزہ لیں‘دونوں ممالک کے سرمایہ کار مل کر کام کریں تو عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام پیدا کر سکتے ہیں‘ ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی‘ پاکستانی تاجروں کو 10سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دیں گے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کا کہناہے کہ دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان 3ارب 40کروڑڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت ہے‘ ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا محفوظ اور پرکشش ماحول فراہم کریں گے‘ازبک تاجر تجارتی تجاویز لائیں، بیورو کریسی کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی‘ کاروبار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور کاروبار کو سرخ فیتے کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پاک ازبک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔علاوہ ازیں صدر مرزائیوف سے ملاقات کےد وران گفتگو کرتے ہوئے صدرمملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھاکہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کیلئے پرعزم ہےجبکہ ازبک صدر کے دورہ پاکستان سے متعلق مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کردیاگیاہے جس میں افغانستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹے، افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم و تحلیل کرنے کے لیے فوری ٹھوس اقدامات کرے اور دہشتگرد تنظیموں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکے۔ تفصیلات کے مطابق پاک ازبک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان3ارب 40کروڑڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت ہے۔ازبکستان میں چاول اور آلو کی مانگ کو پورا کیا جائے گا، چمڑے کی مصنوعات، مائنز اینڈ منرلز، حلال گوشت سمیت پاکستان کئی اشیا برآمد کر سکتا ہے‘پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں، ٹیکسٹائل پلانٹس سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا۔ سیاحت کے فروغ کے لئے پی آئی اے پروازیں بڑھائے گی۔صدر شوکت مرزائیوف نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ دونوں ممالک کے مابین رابطے کا ذریعہ اور اقتصادی تعلقات میں کلیدی کردار کا حامل ہے، انہیں کاروبار کے لئے ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں گے اور رکاوٹیں دور کریں گے۔ انہوں نے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ مسائل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کریں‘باہمی شراکت کے ذریعے آگے بڑھتے ہوئے دونوں ممالک استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے طے پانے والے باہمی سمجھوتوں پر موثر عملدرآمد کے لئے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کے لئے تیار ہیں، 2026 باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال ہوگا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پروازیں بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔بزنس فورم کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں کا تبادلہ ہوا جن میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات کا فروغ، تاشقند لیدر زون کے قیام، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون اور زراعت، لائیو سٹاک، ڈیری فارمنگ اور طبی شعبے میں باہمی تعاون کی دستاویزات کا تبادلہ شامل ہے۔

اہم خبریں سے مزید