• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں قومی شاہراہ کی تباہی، ہزاروں مسافر دربدر، حکومت اور ادارے خاموش

رانی پور (نامہ نگار) سندھ میں قومی شاہراہ کی تباہ حالی ہزاروں مسافر دربدر حکومت اور ادارے خاموش سندھ حکومت، سیاسی جماعتوں کی مسلسل خاموشی کے باعث وفاقی حکومت کی لاپرواہی کھل کر سامنے آ گئی ہے جس کے نتیجے میں سندھ میں قومی شاہراہ مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو چکی ہے رانی پور، ببرلو، روہڑی، کوٹڑی کبیر، مورو، ہالانی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں قومی شاہراہ پر ہزاروں گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں جس کی وجہ سے سفری نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے قومی شاہراہ کی بندش کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات اور اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے جبکہ مریض خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں قومی شاہراہ پر قائم ٹول پلازوں اور وزن چیک کرنے والے کانٹوں کے ذریعے سندھ کے عوام سے روزانہ کروڑوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود سڑک کی حالت نہایت خستہ اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جگہ جگہ گڑھوں ٹوٹی ہوئی سڑک اور ناقص انفراسٹرکچر کے باعث روزانہ سینکڑوں گاڑیاں خراب ہو رہی ہیں جس سے عوام کو بھاری مالی نقصان کے ساتھ ساتھ قیمتی جانوں کے ضیاع کا بھی خطرہ لاحق ہے عوامی حلقوں اور سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہ کی فوری مرمت اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں بصورت دیگر حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ صورتحال کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔

ملک بھر سے سے مزید