کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے متعدد علاقوں میں پانی کا شدید بحران، ہائیڈرنٹس پر بھی پانی دستیاب نہیں ہے،واٹر کارپوریشن کی دھابیجی پرجمعرات کو پھٹنے والی دو لائنوں میں سے ایک کی مرمت مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ گلشن اقبال میں 84 انچ قطر لائن کی مرمت کا کام بھی واٹر کارپرریشن نے شروع کر دیا ،واٹر بورڈ کے متعلقہ انجینئرز کی غلط پلاننگ کے باعث پانی کےبحران نے شہر کے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،واٹر بورڈ کے مطابق گلشن اقبال میں لائن کی مرمت کو چار دن لگیں گے اور اس دوران روزانہ 20 کروڑ گیلن پانی کم سپلائی ہو سکے گاپیر کو مرمتی کام کے باعث لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل، گلشن، جناح، چنیسر، صدر، لیاری اور کلفٹن سمیت کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر رہی اس کے علاوہ لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس بھی بند ر رہے، دھابیجی کی ایک لائن بند ہونے سے5 کروڑ گیلن پانی پہلے ہی کم سپلائی کیا جا رہا ہے اس صورتحال میں لوگوں کو شدید مشکلات رہیں ،دریں اثناٹر بورڈ کی جانب سے 4 دن پانی کی بندش پر اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کراچی کے شہریوں کو تکلیف کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی اس کی حکومت 18 سال میں کراچی کو پینے کا پانی بھی فراہم نہیں کرسکی شہری حقوق کے لئے سڑک پر نکلیں تو حکومت کو عوام کی تکلیف یاد آجاتی ہے، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مرمت کے نام پر کراچی کا 200 ملین گیلن پانی ٹینکر کے ذریعہ بیچا جارہا ہے، چار روز تک پانی کی بندش اہل کراچی پر ظلم ہے،مرتضی وہاب ٹینکر ختم کرنے کا زبانی اعلان کرکے مافیا کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں، یونیورسٹی روڈ پر 84 انچ کی لائن کو مرمت کے نام پر بند کرنا معمول بن گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ واٹربورڈ کا نظام کرپشن میں جکڑا ہوا ہے مرتضی وہاب کو رخصت کرکے اسے بحال کریں گے۔