کراچی ( سہیل افضل ) بینک دولت پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر جون 2026 ء تک18ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور مالی سال 27 ء میں مزید بڑھ کر تقریباً تین ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب پہنچ جائیں گے۔ مہنگائی مالی سال 26 ء اور مالی سال 27 ء کے بیشتر عرصے کے دوران 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رہے گی ‘جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 26ء کے لیے اب 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان متوقع ہے جبکہ مالی سال 27ء میں نمو مزید بڑھنے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک نےپیر کو اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ میکرو اکنامک حالات اور منظرنامے میں بہتری آئی ہے، جس کی معاونت محتاط زری پالیسی رویے اور جاری مالیاتی یکجائی نے کی ہے۔مالی سال 26 ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جس میں تجارتی خسارہ بلند ہوگا جو کارکنوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور منصوبہ بند سرکاری آمدنی سے جزوی طور پر پورا ہونے کی توقع ہے۔رپورٹ معاشی منظرنامے کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات پر بھی متوجہ کرتی ہے۔ اگرچہ حالیہ سیلابوں کے وسیع اثرات کا خطرہ کم ہو گیا ہے، تاہم عالمی سطح پر ٹیرف سے متعلق پیش رفت کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی موجود ہے۔ ملکی سطح پر، ہدف سے کم محصولات کی وصولی اور ممکنہ منفی موسمیاتی حالات کے اثرات مہنگائی، بیرونی کھاتے اور جی ڈی پی کی نمو کے منظرناموں کے لیے کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں منفی دھچکوں کے مقابلے میں معیشت کی لچک کو بڑھانے، پیداواریت کو بہتر بنانے اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے ساختی اصلاحات پر عمل درآمد تیز کرنا اہم ہے۔