• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایوان بالا میں سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی کی نیٹ میٹرنگ لائسنسنگ سے متعلق قرارداد مسترد

اسلام آباد (ساجد چوہدری ، شکیل اعوان ) ایوان بالامیں سینیٹرڈاکٹر زرقا سہر وردی کی نیٹ میٹرنگ لائسنسنگ سے متعلق قرارداد مسترد کر دی گئی‘ قرارداد پر حکومتی اتحادی و اپوزیشن ارکان نے کہا کہ اگر نیٹ میٹرنگ ختم کرنا تھی تو شروع کیوں کی تھی‘ عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ آپ سولر لگائیں گے تو ہم آپ کو فائدہ دیں گے‘سینیٹرعلی ظفرنے کہاکہ عوام پر بم گرایاگیاہے ‘چیئرمین نیپراکو سینیٹ میں بلائیں اورجیل بھیجیں ‘سینیٹر شیری رحمن نے حکومت کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آپ نے ٹیکس کابوجھ بجلی کے بل پر ہی ڈال دیاہے جبکہ سینیٹرذیشان خانزادہ نے کہاکہ حکومت ملک میں صنعتیں بندکرنا اور اسے زرمبادلہ پر چلاناچاہتی ہے ۔وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا کہ کسی صارف سے بیس سال کا نہیں سات سال کاکنٹریکٹ ہوا تھا ، نیٹ میٹرنگ اور بلنگ کا فرق سولرکنٹریکٹ میں نہیں تھا، ہم نے وعدہ کیا ہے کہ 2030ءتک بجلی کا ساٹھ فیصد حصہ کلین انرجی ہو گا ، اس وقت ہم 55 فیصد کلین انرجی حاصل کر چکے ہیں، منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سنیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی کی قرارداد پر بحث کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹربیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ آپ سولر لگائیں گے تو ہم آپ کو فائدہ دیں گے، لوگوں نے لاکھوں روپے کے پینلز پر سرمایہ کاری کی،قرض لیکر چھتوں پر سولر پینل لگائے‘انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا مافیا ہے آئی پی پیز کاہے وہ بہت مہنگی بجلی بیچ رہا ہے،حکومت نے سوچا عوام پر بم پھاڑ دو، نیپرا کا اعلان وہی بم ہے کہ بجلی آپ ہمیں گیارہ روپے کی دو اور حکومت سے چالیس روپے کی خریدی جائے‘نیپراآزادنہیں نیپرا وہی پالیسی بناتی ہے جس کی حکومت ہدایت دیتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید