ڈھاکا (اعزاز سید، اے ایف پی) بنگلہ دیش میں عوامی انقلاب کے نتیجےمیں شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دور آمریت ختم ہونے کے بعد پہلے عام انتخابات آج منعقد ہوں گے۔
انتخابات میں 12 کروڑ 90 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں 44 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے، انتخابات میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
انتخابی نتائج سے پاکستان اور بھارت دونوں کے مفادات وابستہ ہیں، تاریخی ٹرن آؤٹ کا امکان ہے، بنگلہ دیشی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ امن وامان برقرار رکھنے کیلئے فوج اور پولیس سمیت ملک بھر میں 3 لاکھ اہلکار تعینات، انتخابات منصفانہ ہونگے۔
جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے نوجوان ووٹرز (جین زی ) کو جولائی کے انقلاب کا ہیرو قرار دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پراپیگنڈے میں نہ آئیں اور ووٹ ڈالنے کا اپنا مقدس فریضہ سرانجام دیں۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان نے انتخابات میں حمایت پر ملک کے ممتاز علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے عوام آج اپنے مستقبل کا کریں گے، نئی دہلی اور اسلام آباد ان پیش رفتوں کا گہری نظر سے مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ دونوں کے مفادات نتائج سے وابستہ ہیں۔
کئی مبصرین نے ان انتخابات کو ملک کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم ترین انتخابات قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ (جاتیہ سنگشاد )کی براہِ راست منتخب ہونے والی 300 میں سے 299 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔
ایک نشست پر امیدوار کی وفات کے باعث انتخاب ملتوی کر دیا گیا ہے۔ جاتیہ سنگشاد میں خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں اور چار نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے بھی ہوتی ہیں۔