اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کا ایک سال مکمل، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی ہدایات پر انتظامی اصلاحات متعارف، اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت اہم انقلابی اقدامات، خصوصی بنچز کا قیام، مجموعی طور پر دس ہزار سے زائد مقدمات کو نمٹایا گیا، 506 ارب روپے کے ٹیکس مقدمات اور تین ہزار سے زائد ضمانت کیسز کے فیصلے، عدالتی نوٹسز کا وٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے اجرا کا نظام متعارف، پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز، ملازمین کے سروس رولز اور وڈیو لنک سماعت کیلئے ایس او پیز کا نفاذ، اوور سیز پاکستانیوں کے لئے ای فائلنگ کی سہولت اور سماعت کے لئے خصوصی بنچ کی تشکیل،انتظامی اصلاحات نے عدالتی کارکردگی میں بہتری اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی۔ گزشتہ روز جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی عدالتی (پالیسی ساز) کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے معزز چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی جانب سے متعارف کرائی گئی انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس اور ریونیو مقدمات کے التوا میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی نظام میں تاخیر کا خاتمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی تھا۔ طویل عرصے سے زیر التوا ٹیکس ریفرنسز کی تیز رفتار سماعت کے لئے دو خصوصی ڈویژن بنچز تشکیل دئیے گئے۔home