اسلام آباد(جنگ رپورٹر)نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے چیئرمین ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت(نیشنل جوڈیشل پالیسی عدالتی اصلاحات کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی حکومت نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کے لیے ایک منظم شکایتی میکانزم تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد ان شکایات کا ازالہ کرنا ہے جہاں گرفتار شخص کو قانون کے مطابق 24گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ہے ، اجلاس میں غیر ملکی ثالثی فیصلوں سے متعلق مقدمات کے لیے ہائی کورٹوں میں خصوصی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، ااجلاس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے رہنما اصولوں کی منظوری دیتے ہوئے ملک بھر کی ہائی کورٹوں کو اختیار دیا گیاکہ وہ اپنے حفاظتی نظام اور طریقہ کار خود وضع کریں،اجلاس میں ملک بھر کے تمام اضلاع میں ای فائلنگ (آن لائن درخواستوں)کے نفاذ کے لیے قواعد میں ترمیم اور پری ٹرائل ثالثی کے قوانین میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی، بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2025 سے 15 جنوری 2026 کے مختصر عرصہ کے دوران ملک بھر میں 7 لاکھ 54 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے ہیں ،لاہور ہائی کورٹ میں 2020 سے قبل کے تقریبا تمام مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں ، ملک بھر کی ماڈل کورٹوں میں چار ماہ میں 59 ہزار سے زائد فیصلے سنائے گئے،اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جیل اصلاحات کے حوالے سے کارکردگی کو سراہا جبکہ تمام ہائی کورٹوں کو صوبائی جسٹس کمیٹیوں کے ذریعے جیلوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ایکشن پلان حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ۔