کراچی( افضل ندیم ڈوگر) کراچی میں کریم آباد پر مینا بازار انڈر پاس کی تکمیل کا کام دو سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا۔ انتظامیہ کی جانب سے فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں انڈر پاس کھولنے کا وقت دیا تھا یہ پانچویں تاریخ تھی جو گزر گئی ہے اور ابھی بھی انڈر پاس زیر تعمیر ہے اور اس کےمکمل ہونےمیں مزید تاخیر ہوگی۔تاخیر کی وجہ سے منصوبے کی 1.35 ارب روپے کی لاگت دگنی ہوچکی ہے۔ کام کرنے والے سپروائزر ارباب کے مطابق پانی سپلائی لائنوں کی وجہ سے یہ انڈر پاس کراچی کا سب سے گہرائی کا انڈر پاس ہوگا جبکہ تنگ و تاریک ہونے کی وجہ سے بھی یہ ایک بڑا عجوبہ لگ رہا ہے، بدھ کو دورے کے دوران دیکھا گیا کہ عزیز آباد سے موسی کالونی کی طرف کے ٹریک کی سائیڈ کی دیواروں کیلئے شٹرنگ لگائی جا رہی تھی جس میں دیوار مکمل ہونے کے بعد چھت کا مرحلہ شروع ہوگا۔ جس کے بعد انڈر پاس میں سڑکیں اور پھر رنگ و روغن مکمل کیا جائے گا۔ انڈر پاس کے اوپر راؤنڈ اباؤٹ اور سائیڈ کی سڑکوں کی بھی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی جس کیلئے کام سست روی کا شکار ہے۔ کام کرنے والے سپروائزر ارباب کے مطابق پانی سپلائی لائنوں کی وجہ سے یہ انڈر پاس کراچی کا سب سے گہرائی کا انڈر پاس ہوگا جبکہ تنگ و تاریک ہونے کی وجہ سے بھی یہ ایک بڑا عجوبہ لگ رہا ہے۔ 1.2 کلومیٹر طویل انڈر پاس کا سنگ بنیاد 2023 میں نگران حکومت نے رکھا تھا۔ 10 ماہ میں کام مکمل کرکے اسے اکتوبر 2024 کو کھولا جانا تھا مگر کام کی سست روی کے باعث پانی، سیوریج، گیس، بجلی کی لائنوں کو جواز بناکر یہ منصوبہ دو سال سے مکمل نہیں ہوسکا۔ اس کے افتتاح کیلئے اب تک پانچ تاریخیں دی جا چکی ہیں۔ اخری تاریخ فروری کا پہلا ہفتہ بھی گزر چکا ہے۔ تاخیر کی وجہ سے منصوبے کی 1.35ارب روپے کی لاگت دگنی ہوچکی ہے۔