• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ روز ایک عزیز ہمارے پاس آئے اور کہا کہ وہ ایک اخبار کیلئے ” طالب علم امتحانوں میں فیل کیوں ہوتے ہیں ؟‘‘ کے موضوع پر سروے کر رہے ہیں لہٰذا آپ بھی اس سلسلےمیں اپنی ماہرانہ رائے سے آگاہ کریں؟ ہم نے سوچا کہ اگر رائے دینی ہی ہے تو کیوں نہ اپنے کالم میں اس کا اظہار کریں ، سو ہمارے نزدیک امتحانوں میں طلبا کے فیل ہونے کی بنیادی وجہ خود امتحان ہے یعنی اگر عزیز طلبا کا امتحان نہ لیا جائے تو ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے ایک طالب علم بھی فیل نہ ہو۔ دراصل طلباء کا امتحان لینا، طلبا کی صلاحیتوں اور ان کی تعلیمی استعداد پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے مترادف ہے۔ طلبا کے امتحانوں میں فیل ہونے کی دوسری وجہ ممتحن حضرات ہیں، اگر ہمارے ماہرین تعلیم عزیز طلبا پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے پر تل ہی گئے ہیں یا دوسرے لفظوں میںپھر کسی کو ،پھر کسی کا ’ امتحان‘ مقصود ہے۔تو پھر ممتحن حضرات ایسے ہونے چاہئیں جنکے دل شفقت پدری سے معمور ہوں اور جو دوسروں اور اپنے بچوں کا بھلا چاہتے ہوں۔ مہنگائی کے اس دور میں ایسے شفیق حضرات کی کوئی کمی نہیں، چنانچہ اگر انہیں امتحانوں میں خدمت کا موقع دیا جائے اور چھاپہ مار ٹیم اور انکے درمیان ایک مناسب فاصلہ رکھا جائے تو آپ یقین جانیں طلبا امتحانات میں کبھی فیل نہ ہوں، طلبا کے امتحانات میں فیل ہونے پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے چنانچہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ فیل ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر انہیں سمجھا دیا جائے کہ بیٹے ! پاس ہونا یا نہ ہونا تو قسمت کا کھیل ہے، تم اپنے کھیل کود میں لگے رہو اللہ مالک ہے، تو ہمیں یقین ہے کہ اس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوں بلکہ طلبا اور معاشرے کے درمیان خیر سگالی کی فضا پیدا کرنے کی خاطر اگر ملازمتوں کیلئے امتحانوں میں فیل پاس ہونے کی شرط بھی اڑا دی جائے تو اس سے مزید اعتماد کی فضا پیدا ہو سکتی ہے مگر کوئی ان پر اعتماد تو کر کے دیکھے۔یہ سطور لکھتے ہوئے ہمیں یاد آیا کہ امتحانوں کے مرحلے سے صرف ’ بیچارے‘ طلبا ہی کو نہیں گزرنا پڑتا بلکہ ہمارے معاشرے کے مختلف طبقوں کو قدم قدم پر کسی نہ کسی امتحان سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور یوں متذکرہ عزیز نے ہم سے جو سوال کیا تھا، وہ تو خاصا ادھورا ہے مثلاً ایک طبقہ جس کیلئے روز اول سے لے کر روز آخر تک امتحان ہی امتحان ہیں، وہ عشاق کا ہے اور ان کے اس دکھ کو محسوس کرکے ہی اقبال نے کہا تھا۔

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں

ممکن ہے یہ دونوں مصرعے الگ الگ ہوں ، مگر ہمارے نزدیک اصل شعر بہر حال اسی طرح ہونا چاہیے تھا، کیونکہ عشق میں جتنے امتحان در پیش آتے ہیں وہ ان رازدانوں ہی کی وجہ سے آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ سیاست دانوں کا بھی ہے جسے زندگی میں بہت سے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے، مثلاً انہیں زبردست تحریک چلا کر مارشل لا لگوانا پڑتا ہے اور پھر ایک دوسری تحریک کے ذریعے مارشل لااتروانا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے سیاستدانوں کو جن کی ایک بڑی تعداد ماشاء اللہ اہل ثروت طبقے سے تعلق رکھتی ہے مگر رسم دنیا نبھانے کیلئےکبھی کبھار انہیں جیل بھی جانا پڑتا ہے۔ تحریک کے دنوں میں جلسے جلوس ہوں تو میلے کچیلے اور بدبو دار لوگوں کے درمیان کچھ وقت بھی گزارنا پڑتا ہے، بلکہ کبھی کبھار تو ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا بھی کھانا پڑتا ہے یعنی زہر مار کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات وسیع تر قومی مفاد کیلئے اپوزیشن سے نکل کر اچانک وزیر بننا پڑتا ہے اور وزارت ہاتھ سے جاتی دیکھ کر اپوزیشن میں بھی آنا پڑتا ہے، غرضیکہ ان بے چاروں کی زندگی میں امتحان ہی امتحان ہیں، عزیز طالب علم انہیں قریب سے دیکھیں تو اپنے امتحان بھول جائیں۔تاہم ہمارے ہاں سب سے زیادہ امتحانوں سے اگر کسی طبقے کو گزرنا پڑتا ہے، تو وہ صاحبان اقتدار کا طبقہ ہے۔ اقتدار کا حصول بجائے خود ایک امتحان ہے چنانچہ کئی امیدوار تو کمرہ امتحان میں پستول لے کر جاتے ہیں۔ حصول اقتدار کے بعد استحکام اقتدار اور زیادہ مشکل امتحان ہے کیونکہ اس کیلئے تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد قمیض کی آستین میں سے کبوتر نکالنے پڑتے ہیں۔ رسی پر سائیکل چلانا پڑتی ہے حتیٰ کہ کئی دفعہ مسخروں والی ٹوپی پہن کر رنگ میں اچھل کود بھی کرنا پڑتی ہے۔ حصول اقتدار اور استحکام اقتدار کے بعد سب سے مشکل امتحان وہ ہوتا ہے جب اقتدار چھوڑنا پڑتا ہے۔ ’ بھریا میلہ‘ چھوڑنا سب سے مشکل کام ہے اور ہمارے ہاں اس امتحان میں آج تک کوئی ” پاسنگ نمبر‘‘ لے کر بھی پاس نہیں ہوا چنانچہ سب کو فیل ہی کرنا پڑتا ہے اور فیل ہونے کے بعد ہی اس امتحان سے انہیں نجات ملتی ہے۔ سو ہم تو پوری دیانتداری سے محسوس کرتے ہیں کہ امتحانات وغیرہ کا سسٹم یکسر ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اس سے طلباء عشاق، سیاست دانوں اور صاحبان اقتدار کا وقت بہت ضائع ہوتا ہے۔ یوں بھی ہم مشرقی لوگوں کی ایک روایت یہ ہے کہ ہم کسی کو امتحان میں نہیں ڈالتے، چنانچہ یہ روایت ہمیں یہاں بھی نبھانی چاہیے اور حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ طلبا ، عشاق، سیاستدانوں اور صاحبان اقتدار میں سے کسی کو بھی امتحان میں نہ ڈالا جائے تاہم اگر یہ امتحان ضروری ہیں تو پھر جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا ممتحن بہت شفیق قسم کے لوگ ہونے چاہئیں تاکہ ہر ایک کو سند مل سکے اور بوقت ضرورت کام بھی آسکے۔

تازہ ترین