• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ پانچ چھ چھ سال کے بچے ہاتھوں میں کھانے کی پوٹلیاں لئے کام کاج پر روانہ ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا یہ بچے اپنے ننھے منے ہاتھوں سے سارا دن کام کریں گے اور اپنے استاد سے گالیاں بھی سنیں گے اور مار بھی کھائیں گے۔ میں نے سوچا کہ ان کی مائیں (اگر ان کی مائیں ہیں) اپنے جگر گوشوں کو روزانہ خود سے کسی طرح علیحدہ کرتی ہوں گی۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا! ان بچوں کے دن پھیر انکے ہاتھوں میں اوزاروں کی بجائے کھلونے اور کتابیں دے اور ان کے نصیب میں بھی وہ خوشیاں لکھ، جو ان کی عمر کے دوسرے بچوں کے نصیب میں لکھی ہیں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ خوش نصیب بچے جن کے گلے میں بستے ہیں اور بڑے جن کے چہروں پر پریشانیاں کھدی ہوئی ہیں بس اسٹاپ پر کھڑے ہیں۔ مسافروں سے بھری ہوئی بس اسٹاپ پر آکر رکتی ہے جس کے گیٹ سے لوگ چمگاڈروں کی طرح لٹکے ہوئے ہیں۔سٹاپ پر کھڑے ہوئے بچے، جوان، بوڑھے اور عورتیں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کچھ گیٹ کے ساتھ مکھیوں کی طرح چمٹ جاتے ہیں اور باقی دھوپ یا بارش میں گلنے سڑنے کے لئے دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا ! انہیں بسوں کے انتظار کے عذاب سے بچا انکی مشکلیں دور کر دے۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ بس اسٹاپوں پر کھڑے لوگوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جن کے پاس اپنے موٹر سائیکل اورا سکوٹر ہیں، مگر میں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل پر پورا خاندان سوار تھا۔ دو بچے موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اور اس کی ماں موٹر سائیکل کی سیٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھے تھے اور خاندان کا سربراہ درمیان میں پھنسا بیٹھا موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ صرف اس خاندان کی تنگ دستی کی وجہ سے پانچ جانیں خطرے میں ہیں۔ میں نے دعا کی کہ خدا ا ن کی حفاظت کر، انہیں رزق میں وسعت دے تاکہ یہ اپنی جانیں اس طرح خطرے میں نہ ڈالیں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں، بسوں کے انتظار میں کھڑے ہونیوالوں اور موٹر سائیکل پر جانے والوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جو اپنی چھوٹی چھوٹی کاروں میں اپنے اپنے دفتروں کی طرف جا رہے ہیں مگر یہ چھوٹی کاریں ناہموار سڑکوں کی وجہ سے پھدکتی ہوئی جا رہی تھیں اور بڑی بڑی کاروں کے ہجوم میں یہ کاریں کاریں نہیں ہانگ کانگ کی " ڈنکیان " لگ رہی تھیں۔ ان کے مالکوں کے چہروں پر نا خوشگوار قسم کے تاثرات تھے۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا! اپنے ان بندوں پر بھی نظر کرم، انہیں اگر گاڑی دی ہے تو اچھی قسم کی گاڑی دے تاکہ ان کے چہروں کی کھچاوٹ دور ہو اور یہ تیرا شکر ادا کر سکیں!

میں صبح جب گھر سے نکلاتو میں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں، بسوں کے انتظار میں کھڑے ہونیوالوں، موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹی کاروالوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جو نئے ماڈل کی وسیع و عریض کاروں میں تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں، مگر ان کے چہرے بھی خوشیوں سے محروم ہیں کیونکہ کار انہیں دفتر چھوڑ کر گھر واپس آتی ہے اور بچوں کو اسکول چھوڑنے جاتی ہے پھر یہی کار اسکول سے فراغت کے بعد بیگم صاحبہ کو بازار شاپنگ وغیرہ کیلئے لے جاتی ہے بعد ازاں یہی کار صاحب کو دفتر سے لینے کیلئے جاتی ہے اور یوں یہ کار پورے کنبے کی کما حقہ ضروریات کیلئے ناکافی ثابت ہوتی ہے، میں نے دعا کی کہ اے خدا! کنبے کے ہر فرد کو اس طرح کی ایک ایک گاڑی دے تاکہ انکی مشکلات آسان ہوں اور وہ تیرا شکر ادا کر سکیں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں، بسوں کے انتظار میں کھڑے ہونیوالوں، موٹر سائیکل سواروں، چھوٹی کاروں اور ایک بڑی کار کے مالکوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب خاندان ایسے بھی ہیں جن کے کنبے کا ہر فرد اپنی اپنی کار پر کالج دفتر اور شاپنگ سنٹر جا رہا ہے مگر ان کے چہرے احساس محرومی کی وجہ سے کھنچے ہوئے ہیں۔ در اصل اس ملک نے ان لوگوں کی قدر نہیں کی کیونکہ امریکہ میں ایسے ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جن کے ہر فرد کے پاس اپنا اپنا جہاز ہے مگر یہاں ان بیچاروں کو کاروں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا! انہیں بھی جہازوں کا فلیٹ دے تاکہ تیرے یہ مفلس بندے تیرا شکر ادا کریں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے ایک جنازہ دیکھا جسے صرف چار غریب سے آدمی کندھا دے رہے تھے مرحوم کے عزیز و اقرباء اپنی اپنی کاروں میں قبرستان پہنچ کر جنازے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں اس جنازے کے ساتھ قبرستان پہنچا ، مرحوم کو دو فٹ چوڑی لحد میں اتارا اور قبر پر ایک مٹھی مٹی کی ڈال کر دعا کی کہ اے خدا! ہم سب اس دنیا میں تیرے مہمان ہیں، اپنے مہمانوں میں سے کسی کو بھوکا نہ رکھ کہ تو تو اس لحد میں پلنے والے کیڑوں مکوڑوں کی میزبانی بھی، بڑے بڑے ذی شان انسانوں کی سالم رانوں سے کرتا ہے۔ ہم اگر اشرف المخلوقات ہیں، تو ہماری اشرف المخلوقاتی کا بھرم رکھ ہم میں سے جو بھی سچ مچ بھوکے ہیں انہیں روٹی دے، جو ضرورت مند ہیں ان کی ضروریات پوری کر اور وہ جنہیں تو نے رزق میں کشادگی دی ہے انہیں قناعت بھی دے تاکہ یہ تیرا شکر ادا کر سکیں!

تازہ ترین