• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، جماعت اسلامی کے مارچ پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے کو روکنے کے لئے پولیس کا لاٹھی چارج،اور شیلنگ ، شدید ہنگامہ آرائی کے باعث سندھ اسمبلی سے ملحقہ علاقے میدان جنگ بن گئے، پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں جماعت اسلامی کے رہنما سمیت ایک درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کارکنان کیخلاف انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت تھانہ پریڈی میں مقدمہ درج کرلیا گیاا۔ ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا کے مطابق جماعت اسلامی کے 39کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے ہفتہ کو کراچی کے شہری مسائل کے حوالے سے سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ہفتہ کی شام جماعت اسلامی کی کال پر رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد سندھ اسمبلی کے قریب پہنچ گئی تاہم پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سندھ اسمبلی جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری سندھ اسمبلی کے اطراف میں تعینات کردی گئی۔پولیس نے دھرنے کے شرکا کو سندھ اسمبلی کے جانب جانے سے روکنے اور شرکا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شدید شیلنگ کی جس سے متعدد افراد کی حالت غیر ہو گئی۔پولیس کی شیلنگ کے باعث پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے اور گھنٹوں سندھ اسمبلی سے ملحقہ علاقہ میدان جنگ بنا رہا ۔پولیس نے جماعت اسلامی کی جانب سے لائے گئے ساؤنڈ سسٹم ٹرک کو بھی اپنے قبضے میں لےکر تھانے منتقل کر دیا ۔ پولیس ہنگامہ آرائی کے الزام میں جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق سمیت ایک درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا جبکہ پولیس کی لاٹھی چارج سے جماعت اسلامی کے متعدد کارکنان زخمی ہوئے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے پتھراؤ سے ایس ایچ او پریڈی سمیت متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں ۔کشیدہ صورتحال کے باعث ریگل چوک ، برنس روڈ ، اردو بازار اور کبوتر چوک سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراؤ ، لاٹھی چارج اور شیلنگ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ پولیس شیلنگ کا دھواں ہوا کے ساتھ رہائشی فلیٹوں تک بھی گیا جس کی وجہ سے مکینوں کو بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بار بار آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں عام شہریوں کی بھی حالت غیر ہوگئی ۔پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی اور ریڈ زون کی خلاف ورزی کے الزام میں جماعت اسلامی کے ایک درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے ۔پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کرنے کے حوالے سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر کا کہنا تھا کہ ہم شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کیلئے نکلے ہیں مگر پیپلز پارٹی شہر کو حقوق دینے کو تیار نہیں ، ہمارے کارکنوں پر بلاجواز تشدد کیا گیا اور ہم پر آنسو گیس کے شیل بھی برسائے گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں پر تشدد ،آنسوگیس کی شیلنگ ، لاٹھی چارج اور گرفتاری کسی بھی صورت قبول نہیں۔جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکومت نے پر امن و نہتے کارکنان پر شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔پیپلز پارٹی کی اس فسطائیت پر پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ہم کراچی کے لیے جینے دو حق کا مطالبہ کرنے آرہے تھے۔

اہم خبریں سے مزید