• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایس بی سی اے، فائر سیفٹی کیلئے جامع ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں ہر دکان میں آگ بھجانے والا آلہ ،تمام پبلک پروجیکٹس، صنعتی عمارتوں اور رفاہی پلاٹس میں فائر فائٹنگ کے لیے زیر زمین اور اوورہیڈ واٹر ٹینکس لازمی قرار،ڈویلپرز کو مجموعی پارکنگ کے علاوہ موٹر سائیکل پارکنگ اور عوامی و وزیٹر پارکنگ کی اضافی جگہ فراہم کرنا ہو گی تاکہ ہنگامی حالات میں ریسکیو گاڑیوں کی رسائی میں رکاوٹ نہ ہو، حتمی تعمیراتی اجازت سے قبل تصدیق شدہ مکینیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ (MEP) ڈرائنگز جمع کروانا لازمی قرار ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی میں فائر سیفٹی کے لیے جامع ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ،ترامیم کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز (ترمیم) 2026 کے تحت نافذ العمل ہو چکی ہیں اور پورے سندھ میں فوری طور پر لاگو ہوں گی ،ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو نے ترامیم کے حوالے سے کہا کہ یہ اصلاحات فائر سیفٹی نفاذ اور بلڈنگ نگرانی میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعارف کروائی گئی ہیں جو ماضی میں بعض بڑے تجارتی آتشزدگی کے واقعات، خصوصاً گل پلازہ سانحہ کا سبب بنی تھیں ،ترمیم شدہ فریم ورک کے تحت فائر سیفٹی کو عمارت کی منظوری اور تکمیل کے عمل کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہےاب تمام پبلک سیل پروجیکٹس، صنعتی عمارتوں اور امینٹی پلاٹس میں فائر فائٹنگ کے لیے مخصوص زیر زمین اور اوورہیڈ واٹر ٹینکس کی منصوبہ بندی اور تنصیب لازمی ہو گی، ایس بی سی اے نے یہ بھی لازمی قرار دیا ہے کہ پبلک سیل، صنعتی اور امینٹی عمارتوں کے کمپلیشن پلان کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ یا متعلقہ بلدیاتی اداروں کے این او سیز جمع نہ کرائے جائیں، ہر دکان میں کم از کم ایک آگ بجھانے والا آلہ( فائر ایکسٹنگوشر) لازمی ہو گا جبکہ ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے لیے ہر 400 مربع فٹ رقبے پر ایک فائر ایکسٹنگوئشر نصب کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید