کراچی (اسد ابن حسن) گزشتہ ہفتے 9فروری کو جنگ میں شائع ہونے والی خبر "ایف آئی اے ڈاؤ میڈیکل کالج کے سابقہ طالب علموں کی حاضری کا ریکارڈ چیک کرے گی" کا ڈائریکٹر جنرل عثمان انور نے سخت نوٹس لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ انکوائری 95/25 سندھ پولیس کے ریٹائیرڈ ایس کی ایما پر انسپکٹر شاہد حسین نے یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چانسلر اور دو سابق پرنسپلز کو ہراساں کیا اور گرفتاری کی دھمکیاں دیں۔ تفتیشی افسر نے برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر صدف کو طلبی کا نوٹس بھی بھیج دیا۔ جواب میں خاتون کے وکیل نے ایف آئی اے کی اس معاملے میں مداخلت کو نہ صرف غیر قانونی قرار دیا بلکہ یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ انکوائری ذاتی خانگی رنجش پر ڈاکٹر صدف شمیم کے سابقہ شوہر کی شہہ پر اُس کا بہنوئی جو سندھ پولیس کا ریٹائیر ڈی ایس پی ہے اور ایک ڈمی شکایت کنندہ افتخار کی درخواست پر کروارہا ہے جبکہ انسپکٹر شاہد حسین کا تعلق بھی سندھ پولیس سے ہے اور ایف آئی اے میں اس کا ڈیپوٹیشن کا چوتھا برس ہے۔