اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے کرایہ دار کے مالکانہ حقوق کے دعوے سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرایہ دار کرایہ دار کے طور پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے مالک کے حق کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کرایہ دار کو پہلے قبضہ چھوڑنا ہوگا اور صرف اس کے بعد ہی وہ مالکانہ حقوق کیلئے عدالت میں درخواست دے سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ آرٹیکل 115 کے تحت کرایہ دار مالک کے حق کو رد نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کرایہ دار کے طور پر جائیداد میں موجود ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر کرایہ دار نے بعد میں جائیداد میں حصہ خریدا یا شریک مالک ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کا صحیح راستہ سول عدالت میں پارٹیشن کا مقدمہ دائر کرنا ہے نہ کہ ایجیکٹمنٹ کے خلاف رینٹ کنٹرولر کے پاس مزاحمت۔فیصلے کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے پہلے ہی کرایہ دار کی اپیل مسترد کرتے ہوئے درست قانونی نقطہ نظر اپنایا تھا اور سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی توثیق کر دی۔