کراچی(سید محمد عسکری)حکومتِ سندھ نے سرکاری جامعات میں پرو وائس چانسلر یا قائم مقام پرو وائس چانسلر کی تقرری اور اضافی چارج دینے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ یا متعلقہ کنٹرولنگ اتھارٹی کی پیشگی منظوری کو لازمی قرار دے دیا ہے۔محکمہ جامعات و بورڈز سندھ کی جانب سے تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے علم میں آیا ہے کہ بعض جامعات میں پرو وائس چانسلر یا ایکٹنگ پرو وائس چانسلر کی تقرری وزیراعلیٰ کی پیشگی اجازت کے بغیر کی جا رہی ہے، جو کہ یونیورسٹی ایکٹس، قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق وائس چانسلرز کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ تقرریوں، تبادلوں اور انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم، بشمول اضافی چارج دینے کے اختیارات، وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری سے مشروط ہیں۔ ان ضوابط سے ہٹ کر کیا گیا کوئی بھی اقدام غیر قانونی اور کالعدم تصور ہوگا۔محکمہ جامعات و بورڈز نے ہدایت کی ہے کہ اگر کسی جامعہ میں پرو وائس چانسلر کی تقرری ناگزیر ہو تو وائس چانسلر تین سینیئر اور اہل پروفیسرز کا پینل، ان کی تعلیمی قابلیت، تجربہ اور تادیبی حیثیت سمیت، وزیراعلیٰ سندھ کو منظوری کے لیے ارسال کریں گے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ طریقہ کار کے بغیر کی گئی کسی بھی تقرری کو غیر قانونی قرار دے کر واپس لیا یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ تمام وائس چانسلرز کو ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئ۔