• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں تیار ہوں، اے پی این ایس اشتہارات تقسیم کرے، شرجیل میمن

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی، سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہےکہ میں تیار ہوں کہ اے پی این ایس اشتہارات تقسیم کرے، میں نے پہلے بھی اے پی این ایس سے کہا ہے کہ اشتہارات آپ تقسیم کریں۔ انہوں نے پہلے حامی بھرلی تھی لیکن پھر جواب نہیں آیا۔ ہم قانون بنائیں گے تاکہ جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ یہ قوانین سیاستدانوں پر بھی لاگو ہونا چاہئے،وہ ایوان میں پیر کو محکمہ اطلاعات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران مختلف سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں پیر کو محکمہ اطلاعات سے متعلق وقفہ سوالات تھا۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںسزا جزا کے قوانین موجود ہیں مگرپیکا ایکٹ کا ایک صوبے میں غلط استعمال ہوا۔ ایک صحافی کو غلط طریقے سے اٹھایا گیا بعد میں چھوڑدیا گیا۔ میری درخواست ہے کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور ڈی فیمیشن کی سزا سخت کی جائے۔ اسمبلی کا کام قانون سازی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں انکا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ کسی کی آزادی کے خلاف بالکل نہیں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ اخبارات کی مالی امداد کا کوئی طریقہ موجود نہیں تاہم حکومت اخبارات کی سرکیولیشن چیک کر کے انہیں اشتہار دیتی ہے۔ نجی میگزین بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ ہفت روزہ اخبارات کو ہم کم اشتہار دیتے ہیں جبکہ حکومت روزناموں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن آصف موسی نے دریافت کیا کہ صحافیوں کی مالی امداد کا کیا طریقہ کار ہے؟ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ مختلف پریس کلبز کو گرانٹس دیتی ہے ، صحافتی تنظیموں کو گرانٹس دی جاتی ہے۔ وہ اپنے حساب سے صحافیوں کو پیسے دیتے ہیں۔ حکومت سندھ ضرورت مند صحافیوں کو علاج معالجے میں بھی بلاامتیاز مدد فراہم کرتی ہے۔
اہم خبریں سے مزید