اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) بانی تحریک انصاف کی آنکھ کے پردہ بصارت کو لے کر ہنگامہ آرائی کی غرض سے جاری ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ اتوار کو جب ملک کے دو ماہر ترین معالجین چشم پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور ڈاکٹر محمد عارف اڈیالہ جیل پہنچے تو قیدی مریٗض انہیں دیکھ کر بے پناہ خوش ہوا۔ ڈاکٹروں کا معاون عملہ اور ضرورت کی مشینری ان کے پاس تھی، معالجین نے مریٗض سے خیر سگالانہ جموں کے تبادلے کے بعد اپنا کام شروع کیا تو اس نے پورے عمل میں معاونت کا مظاہرہ کیا۔ مریٗض کی آنکھوں کے دبائو کی پڑتال کے بعد اس کی آنکھوں میں پتلی کو پھیلانے والی دوا کے دس قطرے ڈالے گئے۔ یہ عمل پانچ منٹ کے وقفے سے تین مرتبہ دہرایا گیا۔ اس دوران مریض کو آنکھیں بند رکھنے کے لئے کیا گیا تاہم معالجین اس سے ہلکے پھلکے سوالات کرتے رہے۔ معالجین کے قریبی ذرائع نے جنگ، دی نیوز کو بتایا کہ امریکا سے درآمد شدہ جدید ترین مشین پر بانی تحریک کی دونوں آنکھوں کا باری باری معائنہ کیا گیا جس کی تفصیلات ڈاکٹر محمد عارف قلم بند کرتے رہے جب کہ معائنہ کی خدمت پروفیسر نعیم قریشی نے انجام دی۔ اس پورے عمل میں کمرے کی روشنیاں گل کر دی گئیں۔ دونوں معالجین کو اس امر پر اطمینان ہوا کہ مریٗض کی دونوں آنکھوں کے پردہ بصارت میں کٹائو کے کوئی آثار نہیں تھے۔