اسلام آباد( خالد مصطفیٰ )پاکستان کے بجلی کے شعبے میں ایک اہم ادارہ جاتی کشمکش سامنے آ گئی ہے، جہاں نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ این جی سی نے نیپرا سے وضاحت طلب کر لی ہے کہ آیا 11 کلو وولٹ اور اس سے کم درجے کے برقی آلات کے تکنیکی معیار اور وضاحتیں (اسٹینڈرڈز اینڈ اسپیسیفکیشنز) برقرار رکھنا اب بھی اس کی قانونی ذمہ داری ہے یا یہ اختیار کسی اور ادارے کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق این جی سی نے 18 جنوری 2026 کو نیپرا کو خط لکھ کر اس معاملے پر رہنمائی طلب کی، جس کے پس منظر میں وزارتِ توانائی کے ماتحت پی پی ایم سی کی جانب سے مبینہ ہدایات شامل ہیں۔ ان ہدایات کے تحت پی پی ایم سی تکنیکی معیار کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی ایم سی کی مدت میں توسیع صرف 30 ستمبر 2026 تک منظور کی گئی ہے، جس کے باعث ادارہ اپنی بقا اور اثرورسوخ کو یقینی بنانے کے لیے اہم تکنیکی اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔