• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں لینڈ مافیا کیخلاف ترمیمی آرڈیننس نافذ، غیر قانونی قبضے پر 10 سال قید، ایک کروڑ تک جرمانہ

لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر قانونی قبضوں کے مکمل سدباب اور قانونی مالکان کے حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 (II آف 2026) نافذ کر دیا ہے جس کے تحت سزاؤں میں نمایاں اضافہ، طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں، خصوصی ضلعی ٹربیونلز کا قیام، 30 دن میں لازمی فیصلہ، اور ضمانت کا اختیار صرف لاہور ہائی کورٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔غیر قانونی قبضے پر کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 10 سال قید، ایک کروڑ تک جرمانہ، 30 دن میں ملکیت کا فیصلہ لازمی۔ملزم کی ضمانت کا اختیار صرف لاہور ہائی کورٹ کو ہوگا، شکایت کے بعد جائیداد کی ہر قسم کی منتقلی کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔یہ آرڈیننس گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے آئین کے آرٹیکل 128(1) کے تحت اس وقت جاری کیا جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری نہیں تھا اس لئے یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس کے ذریعے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی ایکٹ 2025 (CI آف 2025) میں ہمہ گیر ترامیم کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد قانونی ملکیت کا مضبوط تحفظ، غیر قانونی قبضے کے رجحان کی حوصلہ شکنی، طریقہ کار میں شفافیت، تنازعات کا تیز رفتار تصفیہ، نیک نیتی سے کام کرنے والے افسران کا تحفظ اور مؤثر نفاذ کے ذریعے سماجی استحکام و معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔سیکشن 2 میں“ملزم”کی تعریف مکمل طور پر تبدیل کر دی گئی ہے۔
اہم خبریں سے مزید