کراچی( نصر اقبال،اسٹاف رپورٹر) ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ کےدوسرے مرحلے میںآسٹریلیا ہوبارٹ میں ٹیم کے ساتھ ہونے والی مالی و انتظامی بے ضابطگیوں پر پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ آمنے سامنے آگئے، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کیلئے رہائشی انتظامات کی ذمے داری پی ایس بی پر ڈال دی جبکہ پی ایس بی کا موقف ہے کہ ہماری ذمے داری صرف مالی سپوٹ تک تھی، اس واقعے کی انکوائری سے کیلئے دونوں نے علیحدہ علیحدہ کمیٹی قائم کردی ہے، فیڈریشن نے شرکت کا پلان پی ایس بی کو بھیج دیا تھا، جس میں ہوٹل کی بکنگ بھی شامل تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بین الصوبائی رابطے کے وزیر رانا ثناء اللہ نے حالیہ دورہ آسٹریلیا کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کی بدانتظامی کا سخت نوٹس لیتےہوئے کہا ہے کہ پی ایچ ایف انتظامیہ کے اقدامات سے ملک اور کھیل کی بدنامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔رانا ثناء اللہ نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے،ہم کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے جو بدانتظامی اور کھیل کی بدنامی کا مرتکب پایا جائے گا۔وزیر کے دفتر نے معاملے کی انکوائری شروع کر دی ہے اور ذمہ دار پائے جانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت ملک میں کھیلوں کو فروغ دینے اور اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے جنگ سے بات چیت میں کہا ہے کہ فیڈریشن نے اس معاملے کی تحقیقات کے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔