• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ فورس، شہباز وضاحتیں مانگیں گے، ٹرمپ امن بورڈ کا پہلا اجلاس آج، پاکستان کو امن مشن کے دائرہ کار پر تحفظات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف دورہ امریکا میں غزہ کیلئے فوج بھیجنے کے معاملے پر وضاحت مانگیں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امن مشن کے دائرہ کار پر تحفظات ہیں، پاکستان فوج بھیجنے کا عہد کرنے سے پہلے یقین دہانی چاہتا ہے کہ یہ ایک امن مشن ہوگا نہ کہ اسے حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہدف دیا جائے گا، صدر ٹرمپ کے ʼبورڈ آف پیس کا پہلا باقاعدہ اجلاس آج ہوگا جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت کم از کم 20 ممالک کے وفود بھی شریک ہونگے، اجلاس میں امریکی صدرغزہ کیلئے اربوں ڈالر کے تعمیر نو کے منصوبے کا اعلان اور فلسطینی علاقے کیلئے استحکام فورس کے منصوبوں کی تفصیلات بتائینگے،ذرائع کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ شہباز شریف کی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر یا اگلے دن وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ ان سے ملاقات کرینگے، تجزیہ کاروں کا کہنا پاکستان اس کثیر القومی فورس کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا، کیونکہ اس کی فوج اپنے حریف بھارت کے ساتھ جنگوں اور شورش پسندی سے نمٹنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تین ذرائع نے برطانوی میڈیا کو بتایا ہے کہ اس سے قبل کہ پاکستان ʼبین الاقوامی استحکام فورس (انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس) کے حصے کے طور پر غزہ میں اپنی فوج بھیجنے کا عہد کرے، وہ امریکہ سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ یہ ایک امن مشن ہوگا نہ کہ اسے حماس کو غیر مسلح کرنے کا کام سونپا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف آج جمعرات کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ʼبورڈ آف پیس کے پہلے باقاعدہ اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں، جس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود بھی شریک ہوں گے۔حکومت کے تین ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے دورے کے دوران شہباز شریف فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ بہتر طور پر سمجھنا چاہتے تھے کہ ʼآئی ایس ایف (ISF) کا مقصد کیا ہے، وہ کس کے اختیار کے تحت کام کر رہے ہیں اور ان کا ʼچین آف کمانڈ (نظامِ قیادت) کیا ہوگا۔ان ذرائع میں سے ایک جو شہباز شریف کے قریبی معاون ہیں نے کہا ’’ہم فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ میں یہ واضح کر دوں کہ ہماری فوج صرف غزہ میں امن مشن کا حصہ بن سکتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’ہم کسی اور کردار کا حصہ نہیں بنیں گے، جیسا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا۔ یہ تو ناممکن ہے اور اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ذرائع نے مزید بتایا’’ہم کسی بھی وقت ابتدائی طور پر چند ہزار فوجی بھیج سکتے ہیں، لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ وہاں کیا کردار ادا کریں گے۔

اہم خبریں سے مزید