اسلام آباد (قاسم عباسی) پاکستان میں 80.8 فیصد روزگار غیر رسمی، اجرتوں میں اضافے کے باوجود حقیقی بہتری محدود، چار برسوں میں اوسط ماہانہ تنخواہوں میں 62فیصد اضافہ، خواتین کی رسمی شعبے میں شرح زیادہ مگر اوسط آمدن کم ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ لیبر فورس سروے 2024–25 میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی 80.8 فیصد برسرِ روزگار آبادی اب بھی غیر رسمی شعبے میں کام کر رہی ہے جبکہ صرف 19.2 فیصد افراد رسمی ملازمتوں میں ہیں، حالانکہ گزشتہ چار برسوں کے دوران نامیاتی (برائے نام) اجرتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 18 فروری 2026 کو اسلام آباد میں جاری رپورٹ کے مطابق تنخواہ دار ملازمین کی اوسط ماہانہ اجرت 2020–21 میں 24,028 روپے سے بڑھ کر 2024–25 میں 39,042 روپے ہو گئی، یعنی 62 فیصد اضافہ ہوا۔ مردوں کی اوسط تنخواہ 24,643 روپے سے بڑھ کر 39,302 روپے جبکہ خواتین کی 20,117 روپے سے بڑھ کر 37,347روپے ہو گئی۔ تاہم یہ اضافہ بلند افراطِ زر کے دوران ہوا جس کے باعث حقیقی قوتِ خرید میں بہتری محدود رہی۔ 21ویں آئی سی ایل ایس فریم ورک کے تحت غیر رسمی روزگار خاص طور پر دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر موجود ہے، جبکہ 13ویں آئی سی ایل ایس کی غیر زرعی تعریف کے مطابق بھی 72.1 فیصد کارکن غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں، جو رسمی لیبر تحفظات کی محدود رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔ گیلپ پاکستان کے تجزیے میں ایک صنفی تضاد بھی سامنے آیا ہے: غیر زرعی شعبوں میں 33.7 فیصد ملازم خواتین رسمی روزگار میں ہیں جبکہ مردوں کی شرح 27 فیصد ہے، اس کے باوجود خواتین کی اوسط آمدن کم ہے اور وہ زیادہ تر کم اجرت یا سرکاری شعبے سے منسلک ملازمتوں میں مرکوز ہیں۔ مختلف شعبوں میں اجرتوں کا نمایاں فرق برقرار ہے، جہاں زیادہ آمدن رسمی صنعت اور خدمات کے شعبے میں جبکہ کم ترین اجرتیں زراعت اور کم مہارت والے خدماتی شعبوں میں پائی جاتی ہیں، جس سے معاشی عدم مساوات اور آمدنی کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ برائے نام اجرتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن روزگار کا معیار، ملازمت کا تحفظ اور سماجی تحفظ تک رسائی بدستور محدود ہے، جس کے باعث بالخصوص خواتین اور دیہی آبادی غیر رسمی لیبر مارکیٹ میں غیر محفوظ صورتحال سے دوچار ہیں۔